تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 324
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ سورة الانبياء استحالات اور تحلیلات کا مادہ ہے گو ہمیں معلوم نہ ہو تبھی تو ایک دن زوال پذیر ہو جائیں گے۔ماسوا اس کے ہزار ہا چیزوں کے استحالات پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ کوئی چیز استحالہ سے خالی نہیں۔سوتم پہلے زمین کے استعمالات سے انکار کر لو پھر آسمان کی بات کرنا۔تو کار زمین را نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی غرض جب انواع اقسام کے استحالات ہر روز مشاہدہ میں آتے ہیں اور وحدت ذاتی الہی کا یہ تقاضا بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا منبع اور مبدء ایک ہو اور خدا تعالیٰ کی الوہیت تامہ بھی تبھی قائم رہ سکتی ہے کہ جب ذرہ ذرہ پر اس کا تصرف تام ہو تو پھر یہ استبعاد اور یہ اعتراض کہ ان استحالات سے امان اٹھ جائے گا اور علوم ضائع ہوں گے اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے اور ہم جو کہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ قادر ہے کہ پانی سے آگ کا کام لیوے یا آگ سے پانی کا کام تو اس سے یہ مطلب تو نہیں کہ اپنی حکمت غیر متناہی کو اس میں دخل نہ دے یونہی تحکم سے کام لے لیوے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل آمیزش حکمت سے خالی نہیں اور نہ ہونا چاہئے بلکہ ہمارا یہ مطلب ہے کہ جس وقت وہ پانی سے آگ کا کام یا آگ سے پانی کا کام لینا چاہے تو اس وقت اپنی اس حکمت کو کام میں لائے گا جو اس عالم کے ذرہ ذرہ پر حکومت رکھتی ہے گو ہم اس سے مطلع ہوں یا نہ ہوں اور ظاہر ہے کہ جو حکمت کے طور پر کام ہو وہ علوم کو ضائع نہیں کرتا بلکہ علوم کی اس سے ترقی ہوتی ہے۔دیکھو مصنوعی طور پر پانی کی برف بنائی جاتی ہے یا برقی روشنی پیدا کی جاتی ہے۔تو کیا اس سے امان اٹھ جاتا ہے یا علم ضائع ہو جاتے ہیں۔اس جگہ ایک اور ستر یا در رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ اولیاء سے جو خوارق کبھی اس قسم کے ظہور میں آتے ہیں کہ پانی ان کو ڈبو نہیں سکتا اور آگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اس میں بھی دراصل یہی بھید ہے کہ حکیم مطلق جس کی بے انتہا اسرار پر انسان حاوی نہیں ہو سکتا اپنے دوستوں اور مقربوں کی توجہ کے وقت بھی یہ کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ وہ تو مجہ عالم میں تصرف کرتی ہے اور جن ایسے مخفی اسباب کے جمع ہونے سے مثلاً آگ کی حرارت اپنے اثر سے رُک سکتی ہے خواہ وہ اسباب اجرام علوی کی تاثیریں ہوں یا خود مثلاً آگ کی کوئی مخفی خاصیت یا اپنے بدن کی ہی کوئی مخفی خاصیت یا ان تمام خاصیتوں کا مجموعہ ہو وہ اسباب اس تو حجہ اور اس دعا سے حرکت میں آتی ہیں۔تب ایک امر خارق عادت ظاہر ہوتا ہے مگر اس سے حقائق اشیاء کا اعتبار نہیں اٹھتا اور نہ علوم ضائع ہوتے ہیں بلکہ یہ تو علوم الہیہ میں سے خود ایک علم ہے اور یہ اپنے مقام پر ہے اور مثلاً یہ