تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 3
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ابراهيم لين شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمُ اگر تم میری نعمت کا شکر کرو گے تو میں اسے بڑھاؤں گا اور پھر فرمایا : ولپن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ اور اگر انکار اور کفر کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔اب بتاؤ کہ ان آیات الہی کی تکذیب اور ان کو چھوڑ کر جدید کی طلب اور اقتراح یہ عذاب الہی کو مانگنا ہے یا کیا؟ الخام جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۲) اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بھی بڑا سخت ہے۔یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔( بدر جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۲۳ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۶) قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكُ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا تُرِيدُونَ اَنْ تَصُدُّ وَنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطن مُّبِينٍ۔افِي اللَّهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ یعنی کیا خدا کے وجود میں شک ہو سکتا ہے جس نے ایسے آسمان اور ایسی زمین بنائی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۰) کیا اللہ کے وجود میں بھی شک ہو سکتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔دیکھو یہ تو بڑی سیدھی اور صاف بات ہے کہ ایک مصنوع کو دیکھ کر صانع کو ماننا پڑتا ہے۔ایک عمدہ جوتے یا صندوق کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی ضرورت کا معاً اعتراف کرنا پڑتا ہے پھر تعجب پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کیوں کر انکار کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ایسے صانع کے وجود کا انکار کیوں کر ہو سکتا ہے جس کے ہزار ہا عجائبات سے زمین اور آسمان پر ہیں۔۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۲) وَاسْتَفْتَحُوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنيده نبیوں نے اپنے تئیں مجاہدہ کی آگ میں ڈال کر فتح چاہی۔پھر کیا تھا ہر ایک ظالم سرکش تباہ ہو گیا اور اسی کی طرف اس شعر میں اشارہ ہے۔