تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 4

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴ تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رسوا نکرد سورة ابراهيم (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲۴) یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں، دیکھ دیئے جاتے ہیں۔مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرت الہی کو جذب کریں۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی مکی زندگی کا زمانہ مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے چنانچہ مکہ میں ۱۳ برس گزرے اور مدینہ میں دس برس جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے۔ہر نبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا ہے۔مکار، فریبی ، دکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے۔کوئی برا نام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا۔وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دکھ کو سبہ لیتے ہیں لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔اسی طرح پر رسول اللہ صلعم کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا برا نام آپ کا رکھا گیا ہے۔آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اسْتَفْتَحُوا سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِید تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا یہ تو جہ مخالفوں کی شرارتوں کے انتہا پر ہوتی ہے کیونکہ اگر اول ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا !! مکہ کی زندگی میں حضرت احدیت کے حضور گرنا اور چلانا تھا اور وہ اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سرگرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے سب کے سب ہلاک ہوئے اور باقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی۔احکام جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ صفحه ۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انبیاء اور رسل آتے ہیں وہ ایک وقت تک صبر کرتے ہیں اور مخالفوں کی مخالفت جب انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو ایک وقت توجہ نام سے اقبال علی اللہ کر کے فیصلہ چاہتے ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے وَخَابَ كُل جَبَّارٍ عَنِيْهِ اسْتَفْتَحُوا سنت اللہ کو بیان کرتا ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ چاہتے ہیں اور اس فیصلہ چاہنے کی خواہش ان میں پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب گو یا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۷،۶) جب ایسا وقت آجاتا ہے کہ انبیاء ورسل کی بات لوگ نہیں مانتے تو پھر دعا کی طرف توجہ کرتے ہیں اور