تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 2

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ابراهيم وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَ ط يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) بعض لوگ جہالت سے اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ ہر ایک قوم کی زبان میں الہام ہونا چاہیے جیسے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِہ مگر تم کو عربی میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔تو ایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا سے پوچھو کہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کا اصل سر یہ ہے کہ صرف تعلق جتلانے کی غرض سے عربی میں الہامات ہوتے ہیں کیونکہ ہم تابع ہیں نبی کریم صلعم کے جو کہ عربی تھے۔ہمارا کارو بارسب ظلی ہے اور خدا کے لئے ہے۔پھر اگر اسی زبان میں الہام نہ ہو تو تعلق نہیں رہتا اس لئے خدا تعالیٰ عظمت دینے کے لئے عربی میں الہام کرتا ہے اور اپنے دین کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔جس بات کو ہم ذوق کہتے ہیں اسی پر وہ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ اصل متبوع کی زبان کو نہیں چھوڑتا اور جس حال میں یہ سب کچھ اسی ( آنحضرت صلعم) کی خاطر ہے اور اس کی تائید ہے تو پھر اس سے قطع تعلق کیوں کر ہو اور بعض وقت انگریزی، اردو اور فارسی میں بھی الہام ہوئے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ جتلا دیوے کہ وہ ہر ایک زبان سے واقف ہے۔اسی طرح ایک دفعہ رسول صلم پر اعتراض ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی میں الہام کیا۔این مشت خاک را گر نه بخشم چه کنم البدر جلد اول نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷،۷۶) آخر کار خدا تعالیٰ کی رحمت ہی کاروبار کرے گی۔وَاِذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَ لَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيد اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میر اسخت ہے۔یاد رکھو کہ جب امت کو امتِ مرحومہ قرار دیا ہے اور علوم لدنیہ سے اسے سرفرازی بخشی ہے تو عملی طور پر شکر رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۸) واجب ہے۔