تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 274
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة مريم سیح کو جو انسان ہے خدا کر کے ماننا یہ امر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا گراں اور اس کے غضب کا موجب ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں۔پس یہ بھی مخفی طور پر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب دنیا خاتمہ کے قریب آجائے گی تو یہی مذہب ہے جس کی وجہ سے انسانوں کی زندگی کی صف لپیٹ دی جائے گی۔اس آیت سے بھی یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ گو کیسا ہی اسلام غالب ہو اور گو تمام ملتیں ایک ہلاک شدہ جانور کی طرح ہو جائیں لیکن یہ مقدر ہے کہ قیامت تک عیسایت کی نسل منقطع نہیں ہوگی بلکہ بڑھتی جائے گی اور ایسے لوگ بکثرت پائے جائیں گے کہ جو بہائم کی طرح بغیر سوچنے سمجھنے کے حضرت مسیح کو خدا جانتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت برپا ہو جائے گی۔محله گوار و بیه، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه (۲۲۲) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں پیشگوئی کے طور پر فرمایا تھا کہ ایک وہ نازک وقت آنے والا ہے کہ قریب ہے کہ تثلیث کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں اور اس قدر حد سے زیادہ عیسائیت کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں غلو کیا گیا کہ قریب ہے کہ وہ راست باز جو اخلاص کی وجہ سے آسمانی کہلاتے ہیں گمراہ ہو جا ئیں اور زمین پھٹ جائے یعنی تمام زمینی آدمی بگڑ جائیں اور وہ ثابت قدم لوگ جو جبال راسخہ کے مشابہ ہیں گر جائیں اور قرآن شریف کی وہ ہیئت جس میں یہ پیشگوئی ہے یہ ہے تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَذَا اور آیت چونکہ ذوالو جہین ہے اس لئے دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ قیامت کبری کے قریب عیسائیت کا زمین پر بہت غلبہ ہو جائے گا جیسا کہ آج کل ظاہر ہورہا ہے اور اس آیت کریمہ کا منشا یہ ہے کہ اگر اس فتنہ کے وقت خدا تعالیٰ اپنے مسیح کو بھیج کر اصلاح اس فتنہ کی نہ کرے تو فی الفور قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے مگر چونکہ باوجود اس قدر عیسائیت کے غلو کے اور اس قدر تکذیب کے جواب تک کروڑہا کتا بیں اور رسالے اور دو ورقہ کا غذات ملک میں شائع ہو چکے ہیں قیامت نہیں آئی تو یہ دلیل اس بات پر ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم کر کے اپنے مسیح کو بھیج دیا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا کا وعدہ جھوٹا نکلے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۷،۲۸۶) فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان وزمین پھٹ جائیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں کہ زمین پر یہ ایک بڑا گناہ کیا گیا کہ انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا اور قرآن کے اول میں بھی عیسائیوں کا رد اور ان کا ذکر ہے جیسا کہ آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ اور وَلَا الضالین سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کا رد ہے جیسا کہ