تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 273
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة مريم کار عمر نا پیدا۔تیز قدم اُٹھاؤ جو شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۶،۲۵) وَإِن مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيّا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرور انبیاء اور صلحا کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجے کی مصیبت کا وقت اور سخت جانکاہ مشکل ہوتی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعوبت میں وارد ہوتے ہیں مگر خدا جلد تر ان کی خبر گیری کرتا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے۔اور چونکہ وہ ایک تقدیر معلق ہوتی ہے اسی واسطے ان کی دعاؤں اور ابتہال سے مل جایا کرتی ہیں۔(احکام جلدے نمبر ۱۴ مورفحہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۶) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدَا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِذَانْ تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُ الْجِبَالُ هَنَّا أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَن وَلَدًان اور کہتے ہیں کہ رحمان نے حضرت مسیح کو بیٹا بنا لیا ہے یہ تم نے اے عیسائیو ایک چیز بھاری کا دعوی کیا۔نزدیک ہے جو اس سے آسمان و زمین پھٹ جاویں اور پہاڑ کا نپنے لگیں کہ تم انسان کو خدا بناتے ہو۔پھر بعد اس کے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس خدا بنانے میں یہودی لوگ جو اول وارث توریت کے تھے جن کے عبد عقیق کی پیشگوئیاں سراسر غلط فہمی کی وجہ سے پیش کی جاتی ہیں کیا کبھی انہوں نے جو اپنی کتابوں کو روز تلاوت کرنے والے تھے اور ان پر غور کرنے والے تھے اور حضرت مسیح بھی ان کی تصدیق کرتے تھے کہ یہ کتابوں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں ان کی باتوں کو مانو۔کیا کبھی انہوں نے ان بہت سی پیش کردہ پیشگوئیوں میں سے ایک کے ساتھ اتفاق کر کے اقرار کیا ہو کہ ہاں یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود کو خدا بتاتی ہے اور آنے والا مسیح انسان نہیں بلکہ خدا ہو گا تو اس بات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا ہر ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے ان کو کچھ بھل اور بغض پیدا ہوتا تو اس وقت پیدا ہوتا جب حضرت مسیح تشریف لائے پہلے تو وہ لوگ بڑی محبت سے اور بڑی غور سے انصاف و آزادی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھا کرتے تھے اور ہر روز ان کتابوں کی تلاوت کرتے تھے اور تفسیریں لکھتے تھے پھر کیا غضب کی بات ہے کہ یہ مطلب ان سے بالکل پوشیدہ رہا۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۷۹)