تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 275
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة مريم سورة قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولد سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے درمیان بھی عیسائی مذہب کے فتنہ کا ذکر ہے جیسا کہ آیت تَكَادُ السَّمواتُ يَتَعَطَرْنَ مِنْهُ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن سے ظاہر ہے کہ جب سے کہ دنیا ہوئی مخلوق پرستی اور دجل کے طریقوں پر ایساز ور کبھی نہیں دیا گیا اسی وجہ سے مباہلہ کے لئے بھی عیسائی ہی بلائے گئے تھے نہ کوئی اور مشرک اور یہ جو روح القدس پہلے اس سے پرندوں یا حیوانوں کی شکل پر ظاہر ہوتا رہا اس میں کیا نکتہ تھا سمجھنے والا خود سمجھ لے اور اس قدر ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہمارے نبی صلعم کی انسانیت اس قدر زبردست ہے کہ روح القدس کو بھی انسانیت کی طرف کھینچ لائی۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۵،۸۴) یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جا سکتی تھی لیکن ضالین کی سزا یہ دنیا برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے تَكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا انْ دعوا للرّخين ولدا یعنی یہ ایک ایسا برا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئیں۔غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جہان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سزا اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کر سکتا اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جہان مقرر ہے۔چالیس کروڑ انسان ایک ضعیف اور ناتوان انسان کو انہی دلائل سے خدا مان رہا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے زندہ آسمان پر موجود ہے اور اس نے خلق طیر کیا اور مردوں کو زندہ کیا اور یہ مسلمان ہیں کہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتے اور اپنی گردن کاٹنے کا واسطے خود ان کے ہاتھ میں چھری دیتے اور ان کی اس خطرناک بت پرستی میں مدد کرتے ہیں جس کے واسطے خدا نے ایسا غضب ظاہر کیا تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَظَرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَنَّا - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخه ۱۴ /اگست ۱۹۰۸ صفحه ۳) انتقام جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخه ۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۴) اِنْ كُلٌّ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا أَتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا زمین ، آسمان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مخلوق اور بندہ خدا ہونے سے باہر ہو۔(براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)