تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xviii of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xviii

xvii مضمون خدا تعالی کے رب العرش ہونے کا مطلب وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنّى الهُ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذلِكَ نَجْزِي الظَّلِمِينَ میں مِن دُونِہ کی شرط لگانے کی وجہ حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ عالم کبیر اپنے کمال خلقت کے وقت ایک گٹھڑی کی طرح تھا علم ہیئت کے یورپین محققین جس طرز سے آسمانوں کے وجود کی نسبت خیال رکھتے ہیں در حقیقت وہ خیال قرآن کریم کے مخالف نہیں یونانیوں نے آسمان کو اجسام کثیفہ تسلیم کیا ہے كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ کے معنے وَالسَّمَوتُ مَطوِينَ بِيَمِينِهِ کے معنے طاعون کے متعلق اعتراض کا جواب کہ اکثر غریب مرتے ہیں تکفیر تو مولویوں نے کی تھی نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں وَهذَا ذكر مبرك انْزَلْنَهُ الخ میں ذکر سے مراد اس بات کے ماننے سے کہ خدا تعالیٰ کی غیر متناہی حکمت استحالات غیر متناہیہ پر قادر ہے حقائق الاشیاء سے امن اٹھ جاتا ہے کا جواب ہر وقت ہر یک جسم میں استحالہ اپنا کام کر رہا ہے اور دوطور کے استحالے ان پر حکومت کر رہے ہیں صفحہ ۳۰۵ ۳۰۸ ۳۰۹ ۳۱۲ ۳۱۳ ۳۱۴ ۳۱۵ ۳۲۱ ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۳ ينار كوني برد او سَلْمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کا معجزہ بھی خارج از اسباب نہیں ۳۲۶ ۳۲۷ احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک شرعی دوسرے کونی نمبر شمار ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ܬܪܙ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ ۱۷۳