تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvii of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xvii

صفحہ ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۹۲ ۲۹۳ xvi مضمون خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوگا وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا علق دو قسم کا ہوتا ہے۔ا۔شیطانی علو۔۲۔خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے علو اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کہ جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی روحانی صفات میں تغیرات پیدا ہو کر روح پر موت آجاتی ہے قوت بسطت فی العلم امامت کے لیے ضروری اور اس کا خاصہ لازمی ہے حوا کے چار گناہ دل کے خیالات پر مؤاخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ انسان عزم نہ کر لے ۲۹۴ مَعِيشَةً ضَنكًا اس کا نام ہے جو قیامت کے دن زقوم کی صورت پر متمثل ہو جائے گی نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگنے پر نفی میں جواب نشان دو قسم کے ہوتے ہیں سابقہ کتب انبیاء بنی اسرائیل سے استفادہ کرنا جائز ہے آیت وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدًا إِلَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ سے وفات مسیح پر استدلال اگر ہم بیٹا بناتے تو اپنے پاس سے بیٹا بناتے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت لَوْ كَانَ فِيهِمَا الهَةُ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا سے خدا تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے پر عقلی دلیل ۲۹۵ ۲۹۸ ۲۹۹ ۳۰۵ ۳۰۵ نمبر شمار ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹