تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 133
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورۃ بنی اسراءیل بعض آدمی ایسے خراب ہوتے ہیں کہ وہ نہایت ہی خبیث الفطرت اور شیطان خصلت ہوتے ہیں ان سے توقع ہی نہیں ہو سکتی کہ وہ کبھی رجوع الی اللہ کر سکیں۔ایسے لوگوں پر رُوح منہ کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ وہ رُوحُ الشَّيْطَانِ ہوتے ہیں۔احکام جلد ۱۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ وَكَفَى بِرَيْكَ وَكِيلًا لے حدیثوں میں آیا ہے کہ میسی اور اس کی ماں مست شیطان سے پاک ہیں۔جاہل مولویوں نے اس کے یہ معنے کر لئے کہ بجز حضرت عیسی اور ان کی ماں کے اور کوئی نبی ہو یا رسول ہو مسن شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن کو بھول گئے۔۔۔۔۔بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میں بھی یہودیوں کا ذب اور دفع اعتراض منظور تھا۔چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے نا گفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسی پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے من شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ تھی۔نعوذ باللہ! اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسی اور ان کی والدہ ہی معصوم ہیں اور ان کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہومسن شیطان سے معصوم نہیں ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۵،۳۵۴) قرآن۔۔۔۔نے تومسن شیطان کی نسبت بھی تمام نبیوں اور رسولوں کو عصمت کے بارے میں مساوی حصہ دیا ہے جبکہ کہا اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن - ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه (۳۹۱) صحیح بخاری میں جو یہ حدیث ہے کہ بغیر عیسی بن مریم کے کوئی مسن شیطان سے محفوظ نہیں رہا اس جگہ فتح الباری میں اور نیز علامہ زمخشری نے یہ لکھا ہے کہ اس جگہ تمام نبیوں میں سے صرف عیسی کو ہی معصوم ٹھیرانا قرآن شریف کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ کہہ کر کہ اِنَّ عِبَادِی لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن تمام نبیوں کو معصوم ٹھہرایا ہے پھر عیسی بن مریم کی کیا خصوصیت ہے اس لئے اس حدیث کے یہ معنے ہیں کہ تمام وہ لوگ جو بروزی طور پر عیسی بن مریم کے رنگ میں ہیں یعنی روح القدس سے حصہ لینے والے اور خدا سے پاک تعلق رکھنے والے وہ سب معصوم ہیں اور سب عیسی بن مریم ہی ہیں اور حضرت عیسی کی معصومیت کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ یہودیوں کا یہ بھی اعتراض تھا کہ حضرت عیسی ے مزید تفصیل کے لئے دیکھیں سورۃ الحجر آیت ۴۳