تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 134

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة بنی اسراءیل کی ولادت مسن شیطان کے ساتھ ہے یعنی مریم کا حمل نعوذ باللہ حلال طور پر نہیں ہوا تھا جس سے حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے۔سوضرور تھا کہ اس گندے الزام کو دفع کیا جاتا۔تحفہ گولر و سید روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۰۸ حاشیه ) روح القدس کے فرزند وہ تمام سعادت مند اور راست باز ہیں جن کی نسبت إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن وارد ہے اور قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے۔اول وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں اور بن باپ پیدا ہونا تو کوئی خصوصیت نہیں۔دوئم شیطان کے فرزند۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۳) قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے شیطان کو کہا کہ اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنُ میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں۔بدر جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخہ ۱٫۲۴ کتوبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷) وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَهُمْ مِنَ الطَّيْبَتِ وَ فَضَّلْنَهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلات وَحَمَلْتَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی اٹھا یا ہم نے ان کو جنگلوں میں اور دریاؤں میں۔اب کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہئے کہ حقیقت میں خدائے تعالیٰ اپنی گود میں لے کر اٹھائے پھرا۔سو اسی طرح ملا یک کے پیروں پر ہاتھ رکھنا حقیقت پر محمول نہیں۔از الداو بام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۶) فرشتے تو ہر ایک انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور بموجب حدیث صحیح کے طالب العلموں پر اپنے پروں کا سایہ ڈالتے ہیں۔اگر مسیح کو فرشتے اٹھا ئیں تو کیوں نرالے طور پر اس بات کو مانا جائے۔قرآن شریف سے تو یہ بھی ثابت ہے کہ ہر ایک شخص کو خدا تعالیٰ اٹھائے پھرتا ہے حَمَلْنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ مَگر کیا خدا کسی کو نظر آتا ہے؟ یہ سب استعارات ہیں۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲۶ حاشیه ) ہم نے انسانوں کو زمین پر اور دریاؤں پر خود اٹھایا۔ایسا ہی زمین بھی ہر ایک چیز کو اٹھاتی ہے اور ہر ایک خا کی چیز کی سکونت مستقل زمین میں ہے وہ جس کو چاہے عزت کے مقام پر بٹھا دے اور جس کو چاہے ذلت کے مقام میں پھینک دے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۶، ۴۱۷) یہ خیال مت کرو کہ زمین تمہیں اُٹھاتی ہے یا کشتیاں دریا میں تمہیں اٹھاتی ہیں بلکہ ہم خود تمہیں اٹھا (نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۶) رہے ہیں۔