تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورۃ بنی اسراءیل وَ اذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّويَا التى اريتكَ إِلَّا فِتْنَةً لا لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَنُخَوفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا گبیران بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فَاسْتَيْقَظ لکھا ہے اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔قرآن مجید میں بھی اس کے لئے دُنیا کا لفظ ہے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي ارينك - ( اخبار بدر جلدے نمبر ۲۰،۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) وَ اسْتَفْزِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اجْلِبُ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدُهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطنُ الأَغْرُوران دنیا میں بچے دو قسم کے پیدا ہوتے ہیں (۱) ایک جن میں نفخ روح القدس کا اثر ہوتا ہے اور ایسے بچے وہ ہوتے ہیں جب عورتیں پاک دامن اور پاک خیال ہوں اور اسی حالت میں استقرار نطفہ ہو وہ بچے پاک ہوتے ہیں اور شیطان کا ان میں حصہ نہیں ہوتا (۲) دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور نا پاک رہتے ہیں۔پس ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے جیسا کہ آیت وَ شَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَ الأولاد اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں شیطان کو خطاب ہے کہ ان کے مالوں اور بچوں میں حصہ دار بن جا۔یعنی وہ حرام کے مال اکٹھا کریں گی اور نا پاک اولاد جنیں گی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۹۸،۲۹۷) یاد رکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روح الہی کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وَشَارِكَهُمْ فِي الأموال والأولاد یہ شیطان کو خطاب ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰/اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) فاسقوں فاجروں کی ارواح کو بسبب ان کے فسق و فجور اور شرک کی گندگی کے رُوحَ مِنْہ نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ رُوحُ الشَّيْطَانِ ہوتے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ شَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَولادِ اور اس طرح سے ہم مانتے ہیں کہ بعض رُوحُ الشَّیطان ہوتے ہیں اور بعض روح منہ ہوتے ہیں۔