تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xii
صفحہ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۵ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۵ ۱۵۸ ۱۵۸ ۱۶۰ ۱۶۲ ۱۶۶ ۱۶۷ xi مضمون مَنْ كَانَ فِي هذة أعلى فَهُوَ فِي الْآخِرَق اعلی کا مفہوم یہی ہے کہ بہشتی زندگی اور جہنمی نابینائی کی جڑ اسی جہان سے پڑتی ہے اس زمانے میں یقین کامل کا ذریعہ کون سا ہے کیوں کر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اولیاء میں داخل ہو پھر خدا اسے ایسا اندھار کھے کہ اس کے نبی کو شناخت نہ کر سکے مومن کا معراج اور کمال یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے پنجگانہ نماز کے اوقات انسانی زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ میں حق اور باطل سے مراد آریہ کا اعتقاد کہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں اگر ارواح اور اجسام خود بخو د قدیم اور انادی ہیں تو خدا کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی عیسائیوں کے قول کہ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں کا قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ ربی میں جواب ارواح کے حادث اور مخلوق ہونے کے قرآن شریف میں قوی اور قطعی دلائل وَمَا أُوتِيتُم مِنَ الْعِلْمِ الاَ قَلِیلا کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ کفار ہیں روح کے رحم میں پیدا ہونے سے مراد قرآن روح کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی قبور کے ساتھ تعلق ارواح نمبر شمار ۷۵ ۷۶ ۷۸ ۷۹ ۰۷ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸ ۸۹