تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 32

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲ سورة المائدة (حضرت اقدس نے فرمایا کہ ) ان کتابوں کی نسبت قرآن مجید میں يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہ (المآئدۃ : ۱۴) لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے۔اس لیے جو کتابیں محترف مبدل ہو چکی ہیں ان میں یہ نشانی کب مل سکتی ہے؟ (اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور توریت میں لکھا ہے ” پھر موسیٰ خدا کا بندہ مر گیا اور موسیٰ جیسا نہ کوئی پیدا ہوا نہ ہوگا اور اس کی قبر بھی آج تک کوئی نہیں جانتا تو یہ کلام حضرت موسی کی ہو ہی کس طرح سکتی ہے؟ اور انجیل کی نسبت تو عیسائی خود قائل ہیں کہ وہ اصلی جو عیسی کی انجیل تھی نہیں ملتی۔یہ سب تراجم در تراجم ہیں اور ترجمے مترجم کے اپنے خیالات کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔اور ان میں بہت سا حصہ اس قسم کا پایا جاتا ہے جو دوسروں کا بیان ہے جیسے صلیب کا واقعہ وغیرہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ) یہ ٹھیک بات ہے اگر تمام دنیا میں تلاش کریں تو قرآن مجید کی طرح خالص اور محفوظ کلام الہی کبھی نہیں مل سکتا ، بالکل محفوظ اور دوسروں کی دست برد سے پاک کلام تو صرف قرآن مجید ہی ہے۔احکام جلد ۱۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۵) ص وَ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّا نَصْرَى أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ۔۱۵ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ یعنی ہم نے یہود اور نصاریٰ میں قیامت کے دن تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔اس آیت سے بھی صاف طور پر ثابت ہے کہ یہودی قیامت کے دن تک رہیں گے کیونکہ اگر وہ پہلے ہی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر سلسلہ عداوت اور بغض کا قیامت تک کیوں کر ممتد ہوگا؟ لہذا ماننا پڑا کہ ایسا خیال کہ حضرت مسیح کے نزول کی یہ علامت ہے کہ تمام اہل کتاب اُس پر ایمان لے آویں گے صریح نص قرآن اور حدیث سے مخالف ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۸)