تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 31

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱ سورة المائدة کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۰،۴۰۹) نیکی کی جڑیہ بھی ہے کہ دنیا کی لذات اور شہوات جو کہ جائز ہیں ان کو بھی حد اعتدال سے زیادہ نہ لیوے جیسا کہ کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے حرام تو نہیں کیا مگر اب اسی کھانے پینے کو ایک شخص نے رات دن کا شغل بنالیا ہے اس کا نام دین پر بڑھانا ہے ورنہ یہ لذات دنیا کی اس واسطے ہیں کہ اس کے ذریعہ نفس کا گھوڑا جو کہ دنیا کی راہ میں ہے کمزور نہ ہو۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے یکہ والے جب لمبا سفر کرتے ہیں تو ے یا ۸ کوس کے بعد وہ گھوڑے کی کمزوری کو محسوس کر کے اسے دم دیتے ہیں اور نہاری وغیرہ کھلاتے ہیں تا کہ اس کا پچھلا تکان رفع ہو جاوے تو انبیاء نے جو حظ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح ہے کیونکہ ایک بڑا کام دنیا کی اصلاح کا ان کے سپر د تھا۔اگر خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو ہلاک ہو جاتے۔اس واسطے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت (حضرت عائشہ کے زانو پر ہاتھ مار کر فرماتے کہ اے عائشہ ! راحت پہنچا۔مگر انبیاء کا یہ دستور نہ تھا کہ اس میں ہی منہمک ہو جاتے۔انہماک بیشک ایک زہر ہے۔ایک بدمعاش آدمی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاتا ہے اسی طرح اگر ایک صالح بھی کرے تو خدا کی راہیں اس پر نہیں کھلتی ، جو خدا کے لیے قدم اٹھاتا ہے خدا کو اس کا ضرور پاس ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : اخدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى تنعم اور کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام ہی تقویٰ ہے صرف یہی گناہ نہیں ہے کہ انسان زنانہ کرے، چوری نہ کرے بلکہ جائز امور میں بھی حد اعتدال سے نہ بڑھے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۸) فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنْهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ ، عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ نَسُوا حَقًّا مِمَّا ذُكِرُوا بِهِ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَابِنَةٍ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ ) سوال :۔براہینِ احمدیہ میں آپ نے کلام الہی کی ایک نشانی یہ بھی لکھی ہے کہ وہ ہر ایک پہلو میں دوسری کلاموں سے افضل ہوتا ہے۔توریت انجیل بھی تو خدا تعالیٰ کا کلام ہیں کیا ان میں بھی یہ وصف پایا جاتا ہے؟