تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 314
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة التوبة وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَ لَهُمُ اس میں صلوۃ سے مراد جنازہ کی نماز ہے اور سکن تهُم دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا گنہ گار کو سکینت اور ٹھنڈک بخشی تھی۔(البدرجلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۹) ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لَّهُمْ یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے جو ٹھنڈا پڑ جاوے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بے کا رنہیں کیا۔بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔(الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲) صدقہ صدق سے لیا گیا ہے جب کوئی شخص خدا کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صدق رکھتا ہے۔دوسرا دعا۔دعا کے ساتھ قلب پر سوز گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے دعا بھی ایک قربانی ہے۔صدق اور دعا اگر یہ دو باتیں میسر آجاویں تو اکسیر ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۱۰ر جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۲) التَّابِبُونَ الْعَبدُونَ الْحَمِدُونَ السَّابِحُونَ الرَّكِعُونَ السُّجِدُونَ الأمرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ وہ لوگ خوش وقت ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور خدا کی پرستش میں مشغول ہوتے ہیں اور خدا کی تعریف میں لگے رہتے ہیں اور خدا کی راہ کی منادی کے لیے دنیا میں پھرتے ہیں اور خدا کے آگے جھکے رہتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں وہی مومن ہیں جن کو نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔( برا این احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۴۲) اِنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِ وَيُمِيتُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَليَّ وَلَا نَصِيرٍ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵۔آیت ۷