تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 313

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۳ سورة التوبة والشبقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِى تَحْتَهَا الْاَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا اَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۱۰۰ اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب انہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقعہ پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے : مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ ( الفلق : ٢ ) اور دوسری جگہ الشبِقُونَ الْأَوَّلُونَ اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے۔سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے۔اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔سابقون گویا حاسد ہی ہوتے ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفی ہو کر سابق ہو جاتا ہے۔اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۹/۱) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهَرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَل عَلَيْهِمْ إِنَّ صلوتك سكن لَّهُمْ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔(١٠٣ سكن لَّهُم یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔۔۔تیری صلوۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش اور جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو کر نہ دیا اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی۔ممکن ہے کہ اس نے غرغرہ کے وقت تو بہ کر لی ہو۔مومن کا کام ہے کہ حسن ظن رکھے۔اس لیے نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جاوے ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہے تو پھر نہ پڑھنی چاہیے۔ہماری جماعت کے سر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہماری جماعت دوسرے غیر از جماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے۔