تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 315
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ سورة التوبة میں لکھا ہے مگر پھر بھی خدا کا اُس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہوسکتی ہے کہ اُس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیوں کر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سے عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا وہ اس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا زمین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اُس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دے دی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ میں تم کو بری کروں گا اور وہ خبر صد با انسانوں کو قبل از وقت سنائی گئی اور آخر مجھے بری کیا گیا پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچا لیا جو مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ لئے مُلكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸،۳۷) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ ) شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے اسی لیے قرآن شریف فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور ارتقاء کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو کیونکہ اس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس طیبہ عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ ) انبیاء علیہم السلام تھوڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آیا کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو رسم اور عادت سے نجات دینے اور سچا اخلاص اور ایمان حاصل کرنے کی یہ راہ بتائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصدقین یہ سچی بات ہے اس کو بھی بھولنا نہیں چاہیے کہ جس نے نبی کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر دیا۔رسم اور عادت کی غلامی سے انسان اس وقت نکل سکتا ہے جب وہ عرصہ دراز تک