تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 306

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التوبة فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا کچھ غم نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں یہ فرمایا: إِنَّ اللهَ مَعَنَا - مَعَنا میں آپ دونوں شریک۔یعنی تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا اور دوسرے پر حضرت صدیق کو۔اس وقت دونوں ابتلا میں ہیں کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہورہی ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پایہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گز راور دخل کیسے ہوگا۔مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے۔کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آواز میں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھے آئے ہیں لیکن آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیق صادق صدیق کو فرماتے ہیں : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں اشارہ سے کام نہیں چلتا۔باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے لیے تو یہ نمونہ کافی ہے۔الحام جلد ۹ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللهَ مَعَنا اس معیت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اور گویا کل جماعت آپ کی آگئی۔موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا: إِنَّ مَعَى رَبِّي (الشعراء : ۱۳) اس میں کیا ستر تھا کہ انہوں نے اپنے ہی ساتھ معیت کا اظہار کیا اس میں یہ راز ہے کہ اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم شریر اور فاسق فاجر تھی۔آئے دن لڑنے اور پتھر مارنے کو تیار ہو جاتی تھی۔اس لیے ان کی طرف معیت کو منسوب نہیں کیا بلکہ اپنی ذات تک اسے رکھا ہے۔اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور علو مدارج کا اظہار مقصود ہے۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی نظیر موجود ہے حالانکہ مکہ میں آپ کے وفادار اور جان نثار خدام