تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 307

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ سورة التوبة موجود تھے لیکن جب آپ نے ہجرت کی تو صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے لیا مگر اس کے بعد جب آپ مدینے پہنچ گئے تو دوسرے اصحاب بھی یکے بعد دیگرے وہیں جا پہنچے۔لکھا ہے کہ جب آپ ہجرت کر کے نکلے اور غار میں جا کر پوشیدہ ہوئے تو دشمن بھی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے ان کی آہٹ پاکر حضرت ابوبکر گھبرائے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا۔کہتے ہیں کہ وہ نیچے اتر کر اس کو دیکھنے بھی گئے مگر خدا کی قدرت ہے کہ غار کے منہ پر کڑی نے جالاتن دیا تھا اسے دیکھ کر ایک نے کہا کہ یہ جالا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے اس لیے وہ واپس چلے آئے۔یہی وجہ ہے جوا کثرا کا بر عنکبوت سے محبت کرتے آئے ہیں۔(احکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۵) b اِنْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) اصل مقصود کے پانے کے لیے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے یعنی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : جَاهِدُوا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنفُسِكُم۔۔۔۔۔۔یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۸، ۴۱۹) قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلنَا ۚ وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ہمیں کوئی مصیبت ہر گز نہیں پہنچ سکتی بجز اس مصیبت کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہی ہمارا کارساز اور مولیٰ ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ بس اسی پر بھروسہ رکھیں۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱) ( مصر کے اخبار اللواء نے کشتی نوح کی کسی آیت پر اعتراض کیا تھا کہ یہ لوگ قرآن کو نہیں سمجھتے اور ان کو پتہ نہیں ہے کہ مَا مِن دَاءِ إِلَّا وَلَهُ دَوَاءُ حدیث میں ہے یہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔آپ نے فرمایا :۔)