تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 305

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خِلْعَةَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ (سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳۹،۳۳۸) ۳۰۵ ثانی اثنین کا خلعت پہنایا۔(ترجمہ ازم مرتب ) سورة التوبة ( حضرت ) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدق اس آگ کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا۔گو بعض کی رائے اخراج کی بھی تھی لیکن اصل قتل ہی تھا۔ایسی حالت میں حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے صدق وصفا کا وہ نمونہ دکھایا جو ابد الآباد کے لیے نمونہ رہے گا۔اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت صدیق کی فضیلت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبردست دلیل ہے۔دیکھو اگر وائسرائے ہند کسی شخص کو کسی خاص کام کے لیے انتخاب کرے تو وہ رائے بہتر اور صائب ہوگی یا ایک چوکیدار کی۔ماننا پڑے گا کہ وائسرائے کا انتخاب بہر حال موزوں اور مناسب ہوگا کیونکہ جس حال میں سلطنت کی طرف سے وہ نائب السلطنت مقر ر کیا گیا ہے تو اس کی وفاداری ، فراست اور پختہ کاری پر سلطنت نے اعتماد کیا ہے تب زمام سلطنت اس کے ہاتھ میں دی ہے پھر اس کی صائب تدبیری اور معاملہ منہمی کو پس پشت ڈال کر ایک چوکیدار کے انتخاب اور رائے کو صحیح سمجھ لیا جاوے یہ نا مناسب امر ہے۔کو اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب تھا۔اس وقت آپ کے پاس ۷۰ ۸۰ صحابہ موجود تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس ہی تھے مگر آپ نے ان سب میں سے حضرت ابوبکر ہی کو منتخب کیا۔اس میں ستر کیا ہے۔بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اس کا فہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کشف اور الہام سے بتادیا تھا کہ اس کام کے لیے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہی ہیں۔الحکم جلد 4 نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) حضرت ابو بکر اس ساعت عسر میں آپ کے ساتھ ہوئے یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا۔حضرت مسیح پر جب اس قسم کا وقت آیا تو ان کے شاگردان کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک نے سامنے ہی لعنت بھی کی۔مگر صحابہ کرام میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھا یا غرض حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غار ثور کہتے ہیں۔آپ جا چھپے۔شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لیے منصوبے کر چکے تھے۔تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جاویں گے۔اس وقت آپ نے