تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 296

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سورة التوبة استقامت جو تمام نفسانی جذبات پر غالب آتی ہے ہمیں حاصل ہوگی اس سے پہلے نہیں اور یہی وہ استقامت ہے جس سے نفسانی زندگی پر موت آجاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۳) قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرَّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ ) ۲۹ ان بے ایمانوں سے لڑو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے یعنی عملی طور پر فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور حرام کو حرام نہیں جانتے اور سچائی کی راہیں اختیار نہیں کرتے جو اہل کتاب میں سے ہیں جب تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے دیں اور وہ ذلیل ہوں۔دیکھو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ جو اپنی بغاوتوں کی وجہ سے حق کے روکنے والے ہیں اور ناجائز طریقوں سے حق پر حملہ کرنے والے ہیں ان سے لڑو اور ان سے دین کے طالبوں کو نجات دو۔اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ یہ لڑائی ابتداء بغیر ان کے کسی حملہ کے ہوئی تھی۔لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے اور جب تک آپ سلسلہ کو نہ دیکھو گے اپنے تئیں عمداً یا سہو بڑی غلطیوں میں ڈالو گے۔سلسلہ تو یہ ہے کہ اول کفار نے ہمارے نبی صلعم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا۔اور پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی تو پہلا حکم جو لڑائی کے لئے نازل ہوا وہ یہ تھا: أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرُ لا إِلَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا الله (الحج :۴۱،۴۰)۔۔۔اہل کتاب۔۔۔دعوت حق کے مزاحم ہوئے اور مشرکوں کو انہوں نے مددیں کیں اور ان کے ساتھ مل کر اسلام کو نابود کرنا چاہا جیسا کہ مفصل ذکر اس کا قرآن شریف میں موجود ہے تو پھر بجر لڑنے اور دفع حملہ کے اور کیا تدبیر تھی مگر پھر بھی ان کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا: حَلَى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ طَفِرُونَ یعنی اس وقت تک ان سے لڑو جب تک یہ جزیہ ذلت کے ساتھ دے دیں اور صاف طور پر فرما دیا یعنی جہاد میں یعنی لڑنے میں اسلام سے ابتدا نہیں ہوئی۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۴ تا ۲۵۶) وہ اہل کتاب کہ جو نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نہ خدا اور اُس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دیانت اور سچائی کی راہ کو اختیار کرتے ہیں اُن سے تم لڑو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں۔