تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 295

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة التوبة دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے : أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بإخراج الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ - وَ إِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (الانفال : ۶۲) دیکھو سورۃ الانفال الجز ونمبر ۱۰ ( ترجمہ ) کیا تم ایسی قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور چاہا کہ رسول خدا کو جلا وطن کر دیں اور انہوں نے ہی پہلے تمہیں قتل کرنا شروع کیا۔اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۴) قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَونَ كَسَادَهَا وَ مَسكِنْ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ اليْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَ الله لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاری برادری اور تمہارے وہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں اور تمہاری سوداگری جس کے بند ہونے کا تمہیں خوف ہے اور تمہاری حویلیاں جو تمہارے دل پسند ہیں۔خدا سے اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو لڑانے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم اس وقت تک منتظر رہو کہ جب تک خدا اپنا حکم ظاہر کرے اور خدا بد کاروں کو کبھی اپنی راہ نہیں دکھائے گا۔ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور اپنے مالوں سے پیار کرتے ہیں وہ خدا کی نظر میں بدکار ہیں وہ ضرور ہلاک ہوں گے کیونکہ انہوں نے غیر کو خدا پر مقدم رکھا۔یہی وہ تیسرا مرتبہ ہے جس میں وہ شخص باخدا بنتا ہے جو اس کے لئے ہزاروں بلائیں خریدے اور خدا کی طرف ایسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئی اس کا نہ رہے گویا سب مر گئے۔پس سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہم خود نہ مریں زندہ خدا نظر نہیں آ سکتا۔خدا کے ظہور کا دن وہی ہوتا ہے کہ جب ہماری جسمانی زندگی پر موت آوے۔ہم اندھے ہیں جب تک غیر کے دیکھنے سے اندھے نہ ہوجائیں۔ہم مردہ ہیں جب تک خدا کے ہاتھ میں مردہ کی طرح نہ ہو جائیں۔جب ہمارا منہ ٹھیک ٹھیک اس کے محاذات میں پڑے گا تب وہ واقعی