تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 297
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة التوبة یہ آیات ہیں جن سے نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ کا حکم مسلمان کرنے کے لئے ہے لیکن ان آیات کو اخیر تک پڑھ کر دیکھ لو۔ان آیات میں مسلمان کرنے کا کہیں بھی حکم نہیں بلکہ اگر تم ان آیات کو آیت ان عِدَّةَ الشُّهُورِ ( التوبة : ٣٦) تک پڑھو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ اُن اہل کتاب کا ذکر ہے کہ جو کھلے کھلے طور پر جرائم پیشہ ہو گئے تھے اور عیسائیت اور یہودیت صرف نام کے لئے تھی اور نہ اُن کو خدا پر بھی ایمان نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عرب کے یہود اور عیسائی ایسے بگڑ گئے تھے اور اس درجہ پر وہ بدچلن ہو گئے تھے کہ جو کچھ خدا نے اُن کی کتابوں میں حرام کیا تھا یعنی یہ کہ چوری نہ کریں، لوگوں کا ناحق مال نہ کھاویں، ناحق کا خون نہ کریں، جھوٹی گواہی نہ دیں، خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں یہ تمام نا جائز کام ایسی دلی رغبت سے کرتے تھے کہ گویا اُن بُرے کاموں کو انہوں نے اپنا مذہب قرار دے دیا تھا۔۔۔۔اور ملک کے لئے اُن کا وجود خطر ناک تھا اور اُن کے مفاسد حد سے بڑھ گئے تھے۔۔۔۔۔پس ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ امن عامہ قائم کرنے کے لئے ایسے جرائم پیشہ لوگوں کا تدارک ضروری تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف پیغمبری کا عہدہ رکھتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بادشاہ با اختیار کی طرح ملکی مصالح قائم رکھنے کے ذمہ وار ٹھہرائے گئے تھے اس صورت میں آپ کا فرض تھا کہ بحیثیت ایک بادشاہ اور والی ملک کے شریروں اور بدمعاشوں کا قرار واقعی بندو بست کریں اور مظلوموں کو جو اُن کی شرارتوں سے تباہ ہو گئے تھے اُن کے پنجہ سے چھڑاویں پس یوں سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے دو عہدے تھے ایک عہدہ رسالت کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا تھا وہ لوگوں کو پہنچا دیتے تھے اور دوسرا عہدہ بادشاہت اور خلافت کا۔جس عہد کی رُو سے وہ ہر ایک مفسد اور مخل امن کو سزا دے کر امن عامہ کو ملک میں قائم کر دیتے تھے اور ملک عرب کا اُن دنوں میں یہ حال تھا کہ ایک طرف تو خود عرب کے لوگ اکثر لٹیرے اور قزاق اور طرح طرح کے جرائم کرنے والے تھے اور دوسری طرف جو اہل کتاب کہلاتے تھے وہ بھی سخت بد چلن تھے اور نا جائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے تھے اگر عرب رات کو لوٹتے تھے تو یہ لوگ دن کو ہی غریب لوگوں کی گردن پر چھری پھیر تے تھے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک عرب کی بادشاہی دی تو بلاشبہ آنجناب کا یہ فرض تھا کہ بدمعاشوں اور مجرموں اور چوروں اور ڈاکوؤں اور مفسدوں کا بندوبست کریں اور جو لوگ جرائم سے باز نہیں آتے اُن کو سزا دیں اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بادشاہ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے کہ مثلاً اگر کسی بادشاہ کی رعایا پر لوگ ڈاکہ ماریں اور اُن کا مال لوٹ کر لے جاویں یا نقب