تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 284
۲۸۴ سورة الانفال تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رباط ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جو دشمن کی سرحد پر باندھے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ صحابہ کو اعداء کے مقابلہ کے لیے مستعد رہنے کا حکم دیتا ہے اور اس رباط کے لفظ سے انہیں پوری اور سچی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ان کے سپرد دو کام تھے۔ایک ظاہری دشمنوں کا مقابلہ اور ایک وہ روحانی مقابلہ کرتے تھے اور رباط الغت میں نفس اور انسانی دل کو بھی کہتے ہیں اور یہ ایک لطیف بات ہے کہ گھوڑے وہی کام آتے ہیں جو سدھائے ہوئے اور تعلیم یافتہ ہوں آج کل گھوڑوں کی تعلیم وتربیت کا اسی انداز پر لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسی طرح ان کو سدھایا، سکھایا جاتا ہے جس طرح بچوں کو سکولوں میں خاص احتیاط اور اہتمام سے تعلیم دی جاتی ہے۔اگر ان کو تعلیم نہ دی جائے اور وہ سدھائے نہ جائیں تو وہ بالکل لکھے ہوں اور بجائے مفید ہونے کے خوفناک اور مضر ثابت ہوں۔یہ اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ انسانوں کے نفوس یعنی رباط بھی تعلیم یافتہ چاہئیں اور ان کے قومی اور طاقتیں ایسی ہونی چاہئیں کہ اللہ تعالی کی حدود کے نیچے نیچے چلیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتو وہ اس حرب اور جدال کا کام نہ دے سکیں گے جو انسان اور اس کے خوفناک دشمن یعنی شیطان کے درمیان اندرونی طور پر ہر لحظہ اور ہر آن جاری ہے جیسا کہ لڑائی اور میدانِ جنگ میں علاوہ قوائے بدنی کے تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری ہے۔اسی طرح اس اندرونی حرب اور جہاد کے لیے نفوس انسانی کی تربیت اور مناسب تعلیم مطلوب ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شیطان اس پر غالب آجائے گا اور وہ بہت بری طرح ذلیل اور رسوا ہوگا مثلاً اگر ایک شخص توپ و تفنگ ، اسلحہ حرب بندوق وغیرہ تو رکھتا ہو لیکن اس کے استعمال اور چلانے سے نا واقف محض ہو تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کبھی عہدہ برا نہیں ہو سکتا اور تیر تفنگ اور سامان حرب بھی ایک شخص رکھتا ہو اور ان کا استعمال بھی جانتا ہو لیکن اس کے بازو میں طاقت نہ ہو تو بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتا اس سے معلوم ہوا کہ صرف طریق اور طرز استعمال کا سیکھ لینا بھی کارآمد اور مفید نہیں ہو سکتا جب تک کہ ورزش اور مشق کر کے بازو میں توانائی اور قوت پیدا نہ کی جاوے۔اب اگر ایک شخص جو تلوار چلانا تو جانتا ہے لیکن ورزش اور مشق نہیں رکھتا تو میدانِ حرب میں جا کر جو نہی تین چار دفعہ تلوار کو حرکت دے گا اور دو ایک ہاتھ مارے گا۔اس کے باز ونکھے ہو جائیں گے اور وہ تھک کر بالکل بیکار ہو جائے گا اور خود ہی آخر دشمن کا شکار ہو جائے گا۔پس سمجھ لو اور خوب سمجھ لو کہ نرا علم و فن اور خشک تعلیم بھی کچھ کام نہیں دے سکتی جب تک کہ عمل اور مجاہد ہ اور ریاضت نہ ہو۔دیکھو! سر کار بھی فوجوں کو اسی خیال سے بیکار نہیں رہنے دیتی۔عین امن و آرام کے دنوں میں بھی مصنوعی جنگ بر پا کر کے فوجوں کو بیکار نہیں ہونے دیتی اور معمولی طور پر چاند ماری اور پریڈ وغیرہ تو