تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 285

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوتی رہتی ہے۔۲۸۵ سورة الانفال جیسا ابھی میں نے بیان کیا کہ میدانِ کارزار میں کامیاب ہونے کے لیے جہاں ایک طرف طریق استعمال اسلحہ وغیرہ کی تعلیم اور واقفیت کی ضرورت ہے وہاں دوسری طرف ورزش اور محل استعمال کی بھی بڑی بھاری ضرورت ہے اور نیز حرب و ضرب میں تعلیم یافتہ گھوڑے چاہئیں۔یعنی ایسے گھوڑے جو تو پوں اور بندوقوں کی آواز سے نہ ڈریں اور گرد و غبار سے پراگندہ ہو کر پیچھے نہ نہیں بلکہ آگے ہی بڑھیں۔اسی طرح نفوس انسانی کامل ورزش اور پوری ریاضت اور حقیقی تعلیم کے بغیر اعداء اللہ کے مقابل میدانِ کارزار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔لغت عرب بھی عجیب چیز ہے۔مقابلہ بھی اسی پر ختم ہے۔رباط کا لفظ جو آیة مذکورہ میں آیا ہے جہاں دنیاوی جنگ و جدل اور فنونِ جنگ کی فلاسفی پر مشتمل ہے۔وہاں روحانی طور پر اندرونی جنگ اور مجاہدہ نفس کی حقیقت اور خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے یہ ایک عجیب سلسلہ ہے۔۔۔اب دیکھو کہ یہی رباط کا لفظ جو ان گھوڑوں پر بولا جاتا ہے جو سرحد پر دشمنوں سے حفاظت کے لیے باندھے جاتے ہیں۔ایسا ہی یہ لفظ ان نفسوں پر بھی بولا جاتا ہے جو اس جنگ کی تیاری کے لیے تعلیم یافتہ ہوں جو انسان کے اندر ہی اندر شیطان سے ہر وقت جاری ہے۔یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ اسلام کو دو قو تیں جنگ کی دی گئی تھیں ایک قوت وہ ہتھی جس کا استعمال صدر اول میں بطور مدافعت و انتقام کے ہوا یعنی مشرکین عرب نے جب ستایا اور تکلیفیں دیں تو ایک ہزار نے سنایا ایک لاکھ کفار کا مقابلہ کر کے شجاعت کا جو ہر دکھایا اور ہر امتحان میں اس پاک قوت و شوکت کا ثبوت دیا۔وہ زمانہ گزر گیا اور رباط کے لفظ میں جو فلاسفی ظاہر ہے قوت جنگ اور فنونِ جنگ کی مخفی تھی وہ ظاہر ہوگئی ہے۔اب اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں جنگ ظاہری کی مطلق ضرورت اور حاجت نہیں بلکہ آخری دنوں میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا کیونکہ اس وقت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لیے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے۔اس لیے ان کا مقابلہ بھی اسی قسم کے اسلحوں سے ضروری ہے کیونکہ آج کل امن و امان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے۔آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ اور احکام کی بجا آوری کرسکتا ہے۔پھر اسلام جو امن کا سچا حامی ہے بلکہ حقیقہ امن اور مسلم اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیوں کر اس زمانہ امن و آزادی میں اس پہلے نمونہ کو دکھانا پسند کر سکتا تھا پس آج کل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ مطلوب ہے کیونکہ