تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 283
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة الانفال کے لئے نازل ہوئیں مگر ان کا مصداق عام قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔نادان ایہ بھی نہیں جانتے کہ تدبیر اور انتظام کو بدعات کی مد میں داخل نہیں کر سکتے۔ہر یک وقت اور زمانہ انتظامات جدیدہ کو چاہتا ہے۔اگر مشکلات کی جدید صورتیں پیش آویں تو بجز جدید طور کی تدبیروں کے اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔پس کیا یہ تدبیریں بدعات میں داخل ہو جائیں گی ، جب اصل سنت محفوظ ہو اور اسی کی حفاظت کیلئے بعض تدابیر کی ہمیں حاجت پڑے تو کیا وہ تدابیر بدعت کہلائیں گی ؟ معاذ اللہ! ہر گز نہیں، بدعت وہ ہے جو اپنی حقیقت میں سنت نبویہ کے معارض اور نقیض واقع ہو اور آثار نبویہ میں اس کام کے کرنے کے بارے میں زجر اور تہدید پائی جائے اور اگر صرف جدت انتظام اور نئی تدبیر پر بدعت کا نام رکھنا ہے تو پھر اسلام میں بدعتوں کو گنتے جاؤ کچھ شمار بھی ہے۔علم صرف بھی بدعت ہوگا اور علم نحو بھی اور علم کلام بھی اور حدیث کا لکھنا اور اس کا مبتوب اور مرتب کرنا سب بدعات ہوں گے، ایسا ہی ریل کی سواری میں چڑھنا کلوں کا کپڑا پہناڈاک میں خط ڈالنا، تار کے ذریعہ سے کوئی خبر منگوانا اور بندوق اور توپوں سے لڑائی کرنا تمام یہ کام بدعات میں داخل ہوں گے بلکہ بندوق اور تو پوں سے لڑائی کرنا نہ صرف بدعت بلکہ ایک گناہ عظیم مظہر ے گا کیونکہ ایک حدیث صحیح میں ہے کہ آگ کے عذاب سے کسی کو ہلاک کرنا سخت ممنوع ہے۔صحابہ سے زیادہ سنت کا متبع کون ہوسکتا ہے مگر انہوں نے بھی سنت کے وہ معنی نہ سمجھے جو میاں رحیم بخش نے سمجھے۔انہوں نے تدبیر اور انتظام کے طور پر بہت سے ایسے جدید کام کئے کہ جو نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے اور نہ قرآن کریم میں وارد ہوئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محدثات ہی دیکھو جن کا ایک رسالہ بنتا ہے۔اسلام کیلئے ہجری تاریخ انہوں نے مقرر کی اور شہروں کی حفاظت کیلئے کو تو ال مقرر کئے اور بیت المال کیلئے ایک باضابطہ دفتر تجویز کیا۔جنگی فوج کیلئے قواعد رخصت اور حاضری ٹھہرائے اور ان کے لڑنے کے دستور مقرر کئے اور مقدمات مال وغیرہ کے رجوع کیلئے خاص خاص ہدایتیں مرتب کیں اور حفاظت رعایا کیلئے بہت سے قواعدا اپنی طرف سے تجویز کر کے شائع کئے اور خود کبھی کبھی اپنے عہد خلافت میں پوشیدہ طور پر رات کو پھرنا اور رعایا کا حال اس طرح سے معلوم کرنا اپنا خاص کام ٹھہرایا لیکن کوئی ایسا نیا کام اس عاجز نے تو نہیں کیا صرف طلب علم اور مشورہ امداد اسلام اور ملاقات اخوان کے لئے یہ جلسہ تجویز کیا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۹ تا ۶۱۲ ) اور سرحد پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو کہ خدا کے دشمن اور تمہارے دشمن اس تمہاری تیاری اور استعداد سے ڈرتے رہیں۔۔۔۔۔