تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 229
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۹ سورة الاعراف جو لوگ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جب ان کو پکڑتا بھی ہے تو پھر جان لینے ہی کے لیے پکڑتا ہے مگر مومن کے حق میں اس کی یہ عادت نہیں ہے ان کی تکالیف کا انجام اچھا ہوتا ہے اور انجام کار متقی کے لیے ہی ہے۔جیسے فرمایا: وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔ان کو جو تکالیف اور مصائب آتے ہیں وہ بھی ان کی ترقیوں کا باعث بنتی ہیں تا کہ ان کو تجربہ ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ پھر ان کے دن پھیر دیتا ہے۔(احکام جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۲) ہم اپنے مخالفوں کی مخالفت کی کیا پروا کر یں۔یہ مخالف نوبت به نوبت اپنے فرض منصبی کو سر انجام دیتے ہیں، ابتداء ان کی ہوتی ہے اور انجام متقیوں کا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔القام جلد نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) ہر قسم کے حسد، کینہ، بغض، غیبت، اور کبر اور رعونت اور فسق فجور کی ظاہری اور باطنی راہوں اور کسل اور غفلت سے بچو اور خوب یاد رکھو کہ انجام کار ہمیشہ متقیوں کا ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔اس لیے متقی بننے کی فکر کرو۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) یہ بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ حکم خواتیم پر ہے۔خدا تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ : الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔سنت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ صادق لوگ اپنے انجام سے شناخت کیے جاتے ہیں۔یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ جس کام کو میں نے اُٹھایا ہے ابھی وہ لوگوں پر بہت مشتبہ ہے اور شاید اس بات میں کچھ مبالغہ نہ ہو کہ ہنوز ایسی حالت ہے کہ بجائے فائدہ کے آثار و علامت نقصان کے نظر آتے ہیں۔یعنی بجائے ہدایت کے ضلالت و بدظنی سہل لگتی ہے۔مگر میں جب ایک طرف آیات قرآنی پڑھتا ہوں کیونکہ اوائل میں نبیوں پر ایسے سخت زلازل آئے کہ مدتوں تک کوئی صورت کامیابی کی دکھلائی نہ دی اور پھر انجام کا نسیم نصرت الہی کا چلنا شروع ہوا اور دوسری طرف مواعید صادقہ حضرت احدیت سے بشارتیں پاتا ہوں تو میرا غم دور اور بالکل دور ہو جاتا ہے اور اس بات پر تازہ ایمان آتا ہے كتب الله لاغلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلى (المجادلة :۲۲)۔وو ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۹۲) (مباحثہ کے ذکر پر فرمایا) در حقیقت تو ہم نے فتح پالی ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ وہ دیہات کے لوگ تھے ان کو ان باریک باتوں کی سمجھ نہیں آئی مجھے خوشبو آتی ہے کہ آخر کا ر فتح ہماری ہے دسمبر کے آخر تک جونشان ظاہر ہونے والے ہیں