تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 230
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۳ سورة الاعراف شاید یہ بھی ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ہو جاوے۔یہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے جیسے فرمایا : الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی (تیره) برس تک مکروہات ہی پہنچتے رہے۔(البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۰) قَالُوا أوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۖ قَالَ عَلَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمُ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔موسیٰ کی قوم نے اس کو جواب دیا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستائے گئے تو موسیٰ نے اُن کے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور زمین پر تمہیں خلیفے مقرر کر دے اور پھر دیکھے کہ تم کس طور کے کام کرتے ہو۔آب ان آیات میں صریح اور صاف طور پر وہی لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم میں سے اُن کے سامنے زندہ موجود تھے اور انہوں نے فرعون کے ظلموں کا شکوہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی اور انہیں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ تم ان تکلیفات پر صبر کرو خدا تمہاری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگا اور تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین پر خلیفے بنادے گالیکن تاریخ دانوں پر ظاہر ہے اور یہودیوں اور نصاریٰ کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گو اس قوم کا دشمن یعنی فرعون اُن کے سامنے ہلاک ہوا مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر۔بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک کئے گئے اور چالیس برس تک بیابان لق و دق میں آوارہ رہ کر جان بحق تسلیم ہوئے پھر بعد ان کی ہلاکت کے ان کی اولاد میں ایسا سلسلہ خلافت کا شروع ہوا کہ بہت سے بادشاہ اس قوم میں ہوئے اور داؤد اور سلیمان جیسے خلیفہ اللہ اسی قوم میں سے پیدا ہوئے یہاں تک کہ آخر یہ سلسلہ خلافت کا چودھویں صدی میں حضرت مسیح پر ختم ہوا پس اس سے ظاہر ہے کہ کسی قوم موجودہ کو مخاطب کرنے سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خطاب قوم موجودہ تک ہی محدودر ہے بلکہ قرآن کریم کا تو یہ بھی محاورہ پایا جاتا ہے کہ بسا اوقات ایک قوم کو مخاطب کرتا ہے مگر اصل مخاطب کوئی اور لوگ ہوتے ہیں جو گذر گئے یا آئندہ آنے والے ہیں۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۶،۳۲۵) موسیٰ نے ظاہر ہو کر تین بڑے کھلے کھلے کام کئے جو دنیا پر روشن ہو گئے ایسے ہی کھلے کھلے تین کام جو دنیا