تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 228
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ سورة الاعراف موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہئے کہ دیکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے۔بلکہ سچا محب بلا کے اترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکلی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے۔اسی کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے: وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة : ۲۰۸) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت خاص کے مور د ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی۔جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۱،۴۲۰) وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوسى وَ قَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَ وَيَذَرَكَ وَالهَتَكَ قَالَ سَنُقَتِلُ ابْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِ نِسَاءَهُم وَ إِنَّا فَوْقَهُمْ فهرون ) ج فرعون نے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور تحقیقاً ہم (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۵) ان پر غالب ہیں۔قف قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو، زمین خدا کی ہے جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام بخیر پر ہیز گاروں کا ہی ہوتا ہے۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۵)