تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورۃ الانعام و إن كُنتَ تَفْتَرِحُ أَنْ تَسْمَعَ مِثنى في | اگر اشتراک الالسنہ کی مثال پوچھنا اشْتِرَاكِ الْأَلْسِنَةِ فَكَفَاكَ لَفْظُ الْأَمِ وَالْأُمَّةِ۔فَإِنَّ هَذَا چاہو تو لفظ ام اور امتہ کافی ہے یہ لفظ لفظ تَشَارَكَ فِيْهِ اللَّسَانُ الْهِنْدِيَّةُ وَالْعَرَبِيَّةُ۔وَكَذَلِكَ ہندی، عربی ، فارسی اور انگریزی بلکہ سب اللَّسَانُ الْفَارِسِيَّةُ وَالْإِنْكِلِيرِيَّةُ بَلْ كُلُّهَا كَمَا تَشْهَدُ زبانوں میں مشترک ہے اور تجربہ اس التَّجْرِبَةُ الصَّحِيحَةُ فَانْظُرْ كَالْمُنْقِدِيْنَ وَ قَدْ ظَهَرَ مِن پر گواہ ہے اور وجہ تسمیہ بتاتی ہے کہ یہ وَجْهِ التَّسْمِيَّةِ إِنَّ هَذَا اللَّفْظَ دَخَلَ فِي الْأَلْسُ الا لفظ عربی زبان سے عجمی بولیوں میں عُجَمِيَّةِ مِنَ الْعَرَبِيَّةِ فَإِنَّ التَّسْمِيَّةَ بِحَقِيقَةِ لَا تُوجَدُ إِلَّا گیا۔کیونکہ حقیقی وجہ تسمیہ اسی زبان في هذا اللّسَانِ وَأَمَّا غَيْرَة فَلَا يَحْلُوا مِنَ التَّصَنُّع في میں ہے اور اوروں میں بناوٹ اور الْبَيَانِ فَإِنَّ مِنْ شَأْنِ التَّسْمِيَّةِ الْحَقِيقِيَّةِ الَّتِي هِيَ مِن تکلف ہے کیونکہ حقیقی وجہ تسمیہ کی شان حَضْرَةِ الْعِزَّةِ۔أَن لَّا تَنْفَكَ بِزَمَنٍ مِنَ الْأَرْمِنَةِ الظُّلقَةِ یہ ہے کہ کسی زمانہ میں بھی وہ سٹی سے وَتَكُونَ لِلْمُسَمَّى كَالْعَرْضِ اللَّازِمِ وَ اَنْ تُجَايِؤُهُ فِي هَذِهِ الگ نہ ہو اور کبھی بھی کوئی اس سے النَّشْأَةِ وَلَا يَفْرِضُ فَرْضٌ فَارِضِ كَوْنَهَا في وَقتٍ مِن اس کو الگ نہ کر سکے اور انسانی تصنع الْأُمُورِ الْمُنْفَكَةِ وَ لا تَكُونُ كَالْأُمُورِ الْمُسْتَحْدَثَةِ کی بو بھی اس میں نہ پائی جائے اور الْمَصْنُوعَةِ وَلَا تُوْجَدُ فِيْهَا رِيحُ التَّصَنُّعَاتِ الْإِنْسِيَّةِ وَ دیکھنے سننے والا اس کی نسبت پکارا تھے کہ يُقِرُّ مَنِ اسْتَشَقَّ جَوْهَرَهَا بِأَنَّهَا مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ لا ریب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔من الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۷ ۲۴۸،۲۴) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَ بَنْتِ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبُحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُونَ وَ خَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَ بَنتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔۔۔۔۔فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا۔اگر خدا چاہے تو عیسی ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اس نے کیا۔( دافع البلاء و معیار اصل الاصطفاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۰)