تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 159
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ سورۃ الانعام سُبْحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُونَ۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ ان عیبوں سے پاک و برتر ہے جو وہ لوگ اس کی ذات پر (برائن احمد یہ چہار خصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) لگاتے ہیں۔اور مشرک لوگ ایسے نادان ہیں کہ جنات کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اس کے لیے بغیر کسی علم اور اطلاع حقیقتِ حال کے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں۔برائن احمد یه چهار تحصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ( عرب صاحب نے عرض کیا کہ خدا آسمان پر ہے فرمایا:) اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰى (ظه : ۹) اس نے اپنے آپ کو غلو ہی سے منسوب کیا ہے پستی کی طرف اس کو منسوب نہیں کر سکتے سبحانہ وتعالی۔غلو کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور کشفی صورتوں میں آسمان سے نور نازل ہوتا ہوا دیکھا ہے گو ہم اس کی کنہ اور کیفیت بیان نہ کر سکیں مگر یہ سچی بات ہے کہ اس کو غلو ہی سے تعلق ہے بعض امور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور بعض نہیں ہر صورت میں فلسفہ کام نہیں آتا پس اصل بات یہی ہے کہ ایک وقت ایسی حالت انسان پر آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آسمان سے اس کے دل پر کچھ گرا ہے جو اسے رقیق کر دیتا ہے اس وقت نیکی کا بیج اس میں بویا جائے گا۔الحکم جلدے نمبر ا مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۱) بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ اَتَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ١٠٢ لفظ کل کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لیے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کر دیا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵) لا تُدرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ۱۰۴ آنکھیں اس کی کنہ دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور اس کو آنکھوں کی کنہ معلوم ہے۔برائین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اس کی مانند کوئی بھی چیز نہیں بصارتیں اور بصیر تھیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں اور اس کو ہر یک نظر اور فکر کی