تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 135

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۵ سورۃ الانعام فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا اَخَذْ نَهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ۔(۴۵) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ ایسے وقت آئے گا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوگی بلکہ لوگ ہماری تکذیب کر چکے ہوں گے کہ وہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے: فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِرَوا ہے۔یہ عادت اللہ ہے کہ ایسے وقت عذاب آتا ہے جب لوگ اسے بالکل بھول جاتے ہیں۔ایسا ہی ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا چھپ کر آؤں گا گویا ہر شخص کا دل یقین کر لے گا کہ ہم نے جھوٹ بولا ہے۔بَغْتَةً کا یہی منشاء ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (۴۶) مولوی غلام دستگیر نے میرے صدق یا کذب کا فیصلہ آیت : فَقُطعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا پر چھوڑا تھا جس کے اس محل پر یہ معنی ہیں کہ جو ظالم ہو گا اس کی جڑھ کاٹ دی جائے گی اور یہ امرکی اہل علم پر مخفی نہیں کہ آیت ممدوحہ بالا کا مفہوم عام ہے جس کا اس شخص پر اثر ہوتا ہے جو ظالم ہے پس ضرور تھا کہ ظالم اس کے اثر سے ہلاک کیا جاتا لہذا چونکہ غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم تھا اس لیے اس قدر بھی اس کو مہلت نہ ملی جو اپنی اس کتاب کی اشاعت کو دیکھ لیتا اس سے پہلے ہی مر گیا اور سب کو معلوم ہے کہ وہ اس دعا سے چند روز بعد ہی فوت ہو گیا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۴) قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَايِنُ اللهِ وَلاَ اَعلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكَ : اِنْ اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تتفكرون هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ کیا اندھا اور بینا مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں! پس جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں تو پھر کس قدر غلطی ہے کہ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔غرض یہ ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرنا چاہیے اور مقابلہ ، مومن کے لیے تیار ہو جانا دانشمند انسان کا کام نہیں ہے اور مومن کی شناخت انہیں آثار