تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 136
سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور نشانات سے ہو سکتی ہے جو ہم نے ابھی بیان کیے ہیں اسی فراست البیہ کا رعب تھا جو صحابہ کرام پر تھا اور ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہ رعب بطور نشان الہی آتا ہے۔وہ پوچھ لیتے تھے کہ اگر یہ وحی الہی ہے تو ہم مخالفت نہیں کرتے اور وہ ایک ہیبت میں آجاتے تھے۔۔۔۔جو لوگ یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ مومن کے ساتھ خدا ہے وہ اس کی مخالفت چھوڑ دیتے ہیں اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو تنہا بیٹھ کر اس پر غور کرتے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانه، ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۳،۱۴۲) وَ إِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِايْتِنَا فَقُلْ سَلامُ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَانَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم (۵۵) کفارہ کی تلاش میں لگنا ہنسی کی بات ہے کیا کفارہ وعدوں کو توڑ سکتا ہے بلکہ وعدہ وعدہ سے بدلتا ہے اور نہ کسی اور تدبیر سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سلمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبِّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ - (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۱) جو شخص غم میں سے بوجہ اپنی جہالت کے کوئی بدی کرے اور پھر تو بہ کرے اور نیک کاموں میں مشغول ہو جائے پس اللہ مغفورحیم ہے۔شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۲) وَ كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ۔(۵۶) وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ۔۔۔۔۔تا مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۹ حاشیه ) دوو وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجرمين : اور تا مجرموں کی راہ صاف طور پر کھل جاوے یعنی تا معلوم ہو جاوے کہ کون لوگ تیرا ساتھ اختیار کرتے ہیں اوکون لوگ بغیر بصیرت کامل کے مخالفت پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۳) وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِین : تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۳) ہوتا ہے۔