تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 134

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة الانعام يُدعى ما بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَحَمد درمیان خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے۔آپ نے اللہ کی الله وَأَنلى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَرَ ثُمَّ حمد و ثنا بیان کی اور وعظ ونصیحت کی اور پھر فرمایا: اما بعد، اے :قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ! لوگو! غور سے سنو، میں ایک بشر ہوں قریب ہے کہ میرے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رب کا پیامبر ) ملک الموت ) میرے پاس آئے اور میں اُسے رَبِّي فَأُجِيْب وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ لبيك کہوں اور میں تم میں دو نہایت گراں قدر چیزیں چھوڑ الثَّقَلَيْنِ، أَولُهَا كِتَابُ الله فيه رہا ہوں۔ان میں سے پہلی کتاب اللہ ( قرآن ) ہے جس میں الْهُدى وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِكِتاب اللہ ہدایت اور نور ہے۔پس تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ۔فَحَقِّ عَلی کتاب اس کی تعلیمات پر عمل کرو۔چنانچہ آپ نے کتاب اللہ کے لئے الله وَرَغَبَ فِيْهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ تحریص و ترغیب دلائی پھر فرمایا: اور (دوسرے ) میرے اہل بيتى أُذَكِّرُكُمُ الله في أَهْلِ بَنی بیت ہیں۔میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد وَكِتَابُ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللهِ مَنِ اتَّبَعَه ولاتا ہوں اور (یاد رکھو) کہ اللہ کی کتاب ہی حبل اللہ ہے۔كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَگه کان علی جس نے اس کی پیروی کی تو وہ ہدایت پر ہے اور جس نے اُسے الضَّلالَةِ۔فَانْظُرْ كَيْفَ رَغَبَ فِيْهِ چھوڑا تو وہ گمراہی پر ہے۔پس غور کر کہ کس طرح آنحضور نے وَخَوَّفَ مَنْ تَرَكَهُ مُعْرِضًا عَنْهُ اس (قرآن) کی ترغیب دلائی ہے اور اُس نے اُسے ڈرایا ہے بِحَيْثُ أَخَذَ غَيْرَهُ الَّذِى يُعَارِضُه جس نے قرآن کو اس طور پر اعراض کرتے ہوئے چھوڑا کہ اُس فَاعْلَمْ أَنَّ الْقُرْآنَ إمَامُ وَنُور نے وہ لیا جو اس کے معارض ہے۔پس تو جان لے کہ قرآن وَيَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُ تَنزِيلُ رَبِّ امام اور نور ہے اور وہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یقیناوہ رب العالمین کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔(ترجمہ از مرتب) الْعَالَمِينَ۔(حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۵۲،۲۵۱) بل إيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ اِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ) اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رد کروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے۔( برکات الدعا، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۳)