تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 106

1+7 تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اُتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی اُن کی قبر ہوگی لیکن آسمان پر مرنا آیت فِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : ۲۶) کے برخلاف ہے۔پس اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے بلکہ مرکر گئے اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی مخالفت کرنا اگر معصیت نہیں تو اور کیا ہے؟ (رساله الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) جولوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسی کو مع جسم عنصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغو بات منہ پر لاتے ہیں۔قرآن شریف تو آیت فلما توفيتنى میں حضرت عیسی کی موت ظاہر کرتا ہے اور آیت : قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً ( بني اسرائیل : ۹۴) میں انسان کا مع جسم عصری آسمان پر جانا ممتنع قرار دیتا ہے۔پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الہی کے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں۔توفی کے یہ معنی کرنا کہ مع جسم عصری آسمان پر اُٹھائے جانا اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی۔اوّل تو کسی کتاب لغت میں تو فی کے یہ معنی نہیں لکھے کہ مع جسم عصری آسمان پر اُٹھایا جانا پھر ماسوا اس کے جبکہ آیت فلتا توقیفی قیامت کے متعلق ہے یعنی قیامت کو حضرت عیسی خدا تعالی کو یہ جواب دیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قیامت تو آجائے گی مگر حضرت عیسی نہیں مریں گے اور مرنے سے پہلے ہی مع جسم عصری خدا کے سامنے پیش ہو جائیں گے قرآن شریف کی یہ تحریف کرنا یہودیوں سے بڑھ کر قدم ہے۔چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۵ حاشیه ) دوسرا گناہ ان لوگوں کا یہ ہے کہ قرآن شریف کی نص صریح کے برخلاف حضرت عیسی کو زندہ تصور کرتے ہیں۔قرآنِ شریف میں صریح یہ آیت موجود ہے: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ اور اس آیت کے معنے یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب کہ تو نے مع جسم عنصری مجھ کو آسمان پر اُٹھا لیا۔یہ عجیب لغت ہے جو حضرت عیسی سے ہی خاص ہے۔افسوس! اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح ہے یہ سوال حضرت عیسی سے قیامت کے دن ہو گا۔پس ان معنوں سے جو لفظ متوفیک کے کئے جاتے ہیں لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی تو فوت ہونے سے پہلے ہی قیامت کے دن اللہ جل شانہ کے سامنے حاضر ہو جائیں گے اور اگر کہو کہ آیت فلما توفيتنى کے یہ معنی ہیں کہ جبکہ تو نے مجھ کو وفات دے دی تو پھر مجھ کو کیا خبر تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری اُمت نے کیا طریق اختیار کیا تو یہ معنے بھی اُن کے عقیدہ کی رُو سے غلط ٹھہرتے ہیں اور