تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 105
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة المائدة پر قائم ہیں۔پھر ماسوا اس کے اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام اپنی وفات کے بعد اپنی بے خبری ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے میرے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی اُس وقت سے مجھے اپنی امت کا کچھ حال معلوم نہیں۔پس اگر یہ بات صحیح مانی جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور مہدی کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائیاں کریں گے تو نعوذ باللہ ! قرآن شریف کی یہ آیت غلط ٹھہرتی ہے۔اور یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور اس بات کو چھپائیں گے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہے تھے اور مہدی کے ساتھ مل کر عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں۔پس اگر کوئی قرآن شریف پر ایمان لانے والا ہو تو فقط اس ایک ہی آیت سے تمام وہ منصو بہ باطل ثابت ہوتا ہے جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہدی خونی پیدا ہوگا اور عیسی اس کی مدد کے لئے آسمان سے آئے گا۔بلا شبہ وہ شخص قرآن شریف کو چھوڑتا ہے جو ایسا اعتقا درکھتا ہے۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۹۶، ۱۹۷) عیسی علیہ السلام کو خدا نے وفات دے دی جیسا کہ خدا تعالیٰ کی صاف اور صریح آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كنت أنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمُ اس پر شاہد ہے جس کے معنے آیات متعلقہ کے ساتھ یہ ہیں کہ خدا قیامت کو عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی اپنی اُمت کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا تو اُن پر شاہد تھا اور اُن کا نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا علم تھا کہ میرے بعد وہ کسی ضلالت میں مبتلا ہوئے۔اب اگر کوئی چاہے تو آیت فلما توفیتَنِی کے یہ معنے کرے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اور چاہے تو اپنی ناحق کی ضد سے باز نہ آکر یہ معنے کرے کہ جب تو نے مع جسم عنصری مجھے آسمان پر اُٹھا لیا۔بہر حال اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دُنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور صلیب توڑی ہوتی تو اس صورت میں ممکن نہیں کہ عیسیٰ جو خدا کا نبی تھا ایسا صریح جھوٹ خدا تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن بولے گا کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد میری اُمت نے یہ فاسد عقیدہ اختیار کیا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دے دیا۔کیا وہ شخص جو دوبارہ دنیا میں آوے اور چالیس برس دنیا میں رہے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کرے، وہ نبی کہلا کر ایسا مکروہ جھوٹ بول سکتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں؟ پس جب کہ یہ آیت حضرت عیسی کو دوبارہ آنے سے روکتی ہے ورنہ وہ دروغ گو ٹھہرتے ہیں۔تو اگر وہ مع جسم عصری آسمان پر ہیں