تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 107

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+2 سورة المآئدة دونوں معنوں کے رو سے خدا تعالیٰ عیسی کو ایسے عذر باطل کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ تو میرے سامنے جھوٹ کیوں بولتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کیونکہ تو تو دوبارہ دنیا میں گیا تھا اور دنیا میں چالیس برس تک رہا تھا اور نصاری سے لڑائیاں کی تھیں اور صلیب کو توڑا تھا۔ماسوا اس کے ان معنوں کے رُو سے یہ لازم آتا ہے کہ جب تک حضرت عیسی زندہ رہے عیسائی نہیں بگڑے بلکہ اُن کی موت کے بعد بگڑے پس اس سے تو ان لوگوں کو ماننا پڑتا ہے کہ عیسائی اب تک حق پر ہیں کیونکہ اب تک حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہیں۔چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۲، ۳۸۳ حاشیه ) مولوی ثناء اللہ صاحب۔۔۔۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی کذاب قرار دیتے ہیں تو اگر مجھے بھی کذاب کہیں تو ان پر کیا افسوس کرنا چاہئے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے اس سوال پر کہ کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو، عیسی نے جھوٹھ بولا یعنی ایسا جواب دیا کہ سراسر جھوٹ تھا کیونکہ اُنہوں نے کہا کہ جب تک میں اپنی اُمت میں تھا تو اُن پر گواہ تھا اور جب تو نے وفات دے دی تو پھر تو اُن کا رقیب تھا، مجھے کیا معلوم کہ میرے پیچھے کیا ہوا؟ اور ظاہر ہے کہ اُس شخص سے زیادہ کون کذاب ہوسکتا ہے جو قیامت کے دن جب عدالت کے تخت پر خدا بیٹھے گا اُس کے سامنے جھوٹ بولے گا۔کیا اس سے بدتر کوئی اور جھوٹھ ہوگا کہ وہ شخص جو قیامت سے دوبارہ پہلے دنیا میں آئے گا اور چالیس برس دنیا میں رہے گا اور نصاری کے ساتھ لڑائیاں کرے گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور تمام نصاری کو مسلمان کر دے گا، وہی قیامت کو ان تمام واقعات سے انکار کر کے کہے گا کہ مجھے خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا اور اس طرح پر خدا کے سامنے جھوٹھ بولے گا اور ظاہر کرے گا کہ مجھے اس وقت سے نصاری کی حالت اور اُن کے مذہب کی کچھ بھی خبر نہیں جب سے تو نے مجھے وفات دے دی۔دیکھو یہ کیسا گندہ جھوٹھ ہے اور پھر خدا کے سامنے ، اس طور سے حضرت مسیح کذاب ٹھہرتے ہیں یا نہیں؟ قرآن شریف کھولو اور آیت فَلَمَّا توقیتَنِی کو آخر تک پڑھ جاؤ اور پھر کہو کہ کیا تم نے عیسی علیہ السلام کو کذاب قرار دیا یا نہیں۔مگر اس پر کیا افسوس کریں کیونکہ آپ لوگوں کے نزدیک تو خدا بھی کاذب ہے، خدا تعالی نے عیسی علیہ السلام کی وفات آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِنی میں صاف طور پر بیان کر دی اور تصریح حضرت عیسی کا یہ عذر پیش کر دیا کہ میری وفات کے بعد یہ لوگ بگڑے ہیں۔پس خدا سمجھا رہا ہے کہ اگر حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے کیونکہ عیسائیوں کا راہ راست پر رہنا صرف اُن کی حیات تک ہی وابستہ رکھا گیا تھا اور عیسائیوں کی ضلالت کی علامت حضرت عیسی کی وفات پر ٹھہرائی گئی تھی۔اب کہو اس صورت میں آپ کے