تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة المائدة قیامت کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے کہ عیسائیوں نے کون سی راہ اختیار کی۔اگر وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھے خبر نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جھوٹا نہیں ہوگا کیونکہ جس شخص کو یہ علم ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آیا تھا اور عیسائیوں کو دیکھا تھا کہ اس کو خدا سمجھ رہے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں اور ان سے لڑائیاں کیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے روبرو انکار کرتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا اس سے زیادہ کا ذب کون ٹھہر سکتا ہے۔جواب صحیح تو یہ تھا کہ ہاں! میرے خداوند مجھے عیسائیوں کی گمراہی کی خوب خبر ہے کیونکہ میں دوبارہ دنیا میں جا کر چالیس برس تک وہاں رہا اور صلیب کو توڑا پس میرا کچھ گناہ نہیں ہے۔جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ مشرک ہیں تو میں اُسی وقت ان کا دشمن ہو گیا بلکہ ایسی صورت میں کہ جبکہ قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام چالیس برس تک دنیا میں رہ چکے ہوں گے اور اُن سب کو سزائیں دی ہوں گی جو اُن کو خدا سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کا ایسا سوال اُن سے ایک لغوسوال ہوگا کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ اُس شخص نے اپنے معبود ٹھہرائے جانے کی اطلاع پا کر ایسے لوگوں کو خوب سزا دی تو پھر ایسا سوال کرنا اس کی شان سے بعید ہے۔غرض جس قدر مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے یہ کھول کر سنا دیا ہے کہ عیسی فوت ہو گیا ہے اور پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ہاں اس کا مثیل آنا ضروری ہے۔اگر اس قسم کی تصریح ملا کی نبی کے صحیفہ میں ہوتی تو یہود ہلاک نہ ہوتے پس بلا شبہ وہ لوگ یہود سے بدتر ہیں کہ جو اس قدر تصریحات خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں پا کر پھر حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کے منتظر ہیں۔( تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱،۲۰) خدا تعالیٰ قیامت کو حضرت عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور ہماری پرستش کرنا اور وہ جواب دیں گے کہ اے میرے خدا! اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تو عالم الغیب ہے۔میں نے تو وہی باتیں اُن کو کہیں جو تو نے مجھے فرما ئیں یعنی یہ کہ خدا کو وحدہ لاشریک اور مجھے اس کا رسول مانو۔میں اُس وقت تک اُن کے حالات کا علم رکھتا تھا جب تک کہ میں اُن میں تھا۔پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو اُن پر گواہ تھا۔مجھے کیا خبر ہے کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا۔اب ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ جب تک میں زندہ تھا عیسائی لوگ بگڑے نہیں تھے اور جب میں مر گیا تو مجھے خبر نہیں کہ ان کا کیا حال ہوا۔پس اگر مان لیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک بگڑے نہیں اور کچے مذہب