تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 103
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٠٣ سورة المائدة كَمَا تَزْعَمُونَ فَلِمَ انْكَرَ لَمَّا سُئِل خیال کرتے ہو تو پھر جب ان سے عیسائیوں کی گمراہی کے عَنْ ضَلَالَةِ النَّصَارَى وَاعْتَذَرَ بِعَدَمِ متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے انکار کیوں کیا اور کیوں عدم الْعِلْمِ كَمَا انْتُمْ تَنْدُسُونَ وَلَمْ علم کا عذر کیا جیسا کہ تم قرآن مجید میں پڑھتے ہو اور یہ نہ کہا يَقُلْ إِنِّي أَعْلَمُ مَا أَحْدَثُوا بَعْدِی کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے میرے بعد کیا کیا بدعتیں يمَارُ دِدْتُ إِلَى الدُّنْيَا وَرَنَيْتُ ما اختیار کیں کیونکہ میں دنیا میں واپس گیا تھا اور میں نے كَانُوا يَعْمَلُونَ۔وَكَانَ الْحَقُّ أَنْ يَقُولَ دیکھا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں پس حق یہ تھا کہ آپ کہتے کہ رَبِّ إِنِّي رَجَعْتُ إِلَى الدُّنْيَا باذنك اے میرے پروردگار! تیرے اذن سے دوبارہ دنیا میں گیا وَلَبِثْتُ فِيهِمْ إِلَى أَرْبَعِينَ سَنَةً تھا اور ان میں چالیس سال رہا تھا۔میں نے انہیں اپنی اور فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَني وَأنْيَ وَعَلَيْهِ اپنی والدہ کی عبادت کرتے پایا اور وہ اس طریق پر مصر يُصِرُّونَ فَكَسَرْتُ صُلْبَاءَهُم رہے۔پس میں نے ان کی صلیبوں کو توڑا اور میں نے ان کے وَاَصْلَحْتُ زَمَانَهُمْ وَقَتَلْتُ كَثِيرًا زمانہ کی اصلاح کی اور ان میں سے بہتوں کو قتل کیا پس وہ مِّنْهُمْ فَدَخَلُوا فِي دِينِ اللهِ وَهُمُ تضرع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو گئے۔يَتَضَرَّعُوْنَ۔فَاسْتَلُوا عِیسی کم پس اپنے میسی سے دریافت کرو کہ وہ قیامت کے دن کیوں لِمَ يَكْذِبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُخفى جھوٹ بولیں گے اور اس طرح اس شہادت کو جو ان کے پاس شَهَادَةٌ كَانَتْ عِندَهُ كَأَنَّهُ مِنَ الَّذِينَ تھی چھپائیں گے۔گویا کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے۔(ترجمہ از مرتب) لا يَعْلَمُونَ (تحفة الندوة ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۹) اللہ تعالی قیامت کو حضرت عیسی علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا تو حضرت عیسی جواب دیں گے کہ یا الہی ! اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تیرے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔میں نے تو صرف وہی کہا تھا جو تو نے فرمایا تھا پھر جبکہ تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر صرف تو ہی ان کا نگہبان تھا مجھے اُن کے حال کا کیا علم تھا۔اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور چالیس برس دنیا میں ٹھہریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں کریں گے تو وہ