تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 39
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة ال عمران اچھا نہیں سمجھتے مگر ہمارے خیال میں وہ ان علماء سے بہتر اور افضل تھا گومعتز لی تھا مگر اس کے ایمان نے گوارا نہ کیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عظمت پر داغ لگا وے بلکہ اس کے دل میں اسلامی غیرت اور محبت نے جوش مارا۔اصل میں ان لوگوں میں تزکیہ نفس نہیں ہے جب انسان تزکیہ نفس اختیار کرتا ہے تو قرآن شریف کے معانی اور معارف اس پر کھولے جاتے ہیں۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ /اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۷) حضرت مسیح اور ان کی ماں مریم پر یہود کا اعتراض تھا۔مسیح کو وہ لوگ ناجائز ولادت کا الزام لگاتے اور مریم کو زانیہ کہتے تھے۔قرآن شریف کا کام ہے کہ انبیاء پر سے اعتراضات کو رفع کرے اس لئے اس نے مریم کے حق میں زانیہ کی بجائے صدیقہ کا لفظ رکھا اور مسیح کو میش شیطان سے پاک کہا۔اگر ایک محلہ میں صرف ایک عورت کا تبریہ کیا جاوے اور اس کی نسبت کہا جاوے کہ وہ بدکار نہیں ہے تو اس سے یہ التزام لازم نہیں آتا کہ باقی کی سب ضرور بدکار ہیں صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس پر جو الزام ہے وہ غلط ہے یا اگر ایک آدمی کو کہا جاوے کہ وہ بھلا مانس ہے تو اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہوتے کہ باقی کے سب لوگ بھلے مانس نہیں بلکہ بدکار ہیں، اسی طرح یہ ایک مقدمہ تھا کہ مسیح اور اس کی ماں پر الزام لگائے گئے تھے ، خدا نے شہادت دی کہ وہ الزاموں سے بری اور پاک ہیں۔کیا عدالت اگر ایک ملزم کو قتل کے مقدمہ میں بری کر دے تو اس سے یہ لازم آوے گا کہ باقی کے سب لوگ اس شہر کے ضرور قاتل اور خونخوار ہیں۔غرضیکہ اس قسم کی بدعات اور فساد پھیلے ہوئے تھے جن کے دور کرنے کے لیے خدا نے ہمیں مبعوث کیا ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ء صفحه ۴) تمام انبیاء اور صلحا میں شیطان سے پاک ہوتے ہیں، حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے۔اس لئے ان کے لئے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی۔دوسرے نبیوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلم و مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اس کی ایک رنگ میں ہتک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے تب ہی تو آپ کا نام انہوں نے امین رکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحدی کیا کہ قَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ