تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 38

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ سورة ال عمران حدیث شریف میں یہ بات فرمائی کہ یہ الزام جھوٹے ہیں بلکہ مریم صدیقہ تھی اور حضرت عیسی کی پیدائش میں شیطان سے پاک تھی۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اور آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق کبھی کسی کا فر کو ایسا وہم و گمان بھی نہ ہوا تھا بلکہ سب کے نزدیک آپ اپنی ولادت کی رو سے طیب اور طاہر تھے اور آپ کی والدہ عفیفہ اور پاکدامن تھی، اس لئے آپ کی نسبت یا آپ کی والدہ ماجدہ کی نسبت ایسے الفاظ بیان کرنے ضروری نہ تھے کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے۔مگر حضرت عیسی اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت یہودیوں کے بہتان کی وجہ سے ایسے بری کرنے والے الفاظ کی ضرورت پڑی۔یہی حال دیگر انبیاء علیہم السلام کا ہے ان کے متعلق بھی نہ کبھی ایسا اعتراض ہوا اور نہ اس کے دفعیہ کی ضرورت کبھی محسوس ہوئی۔افسوس ہے کہ ان علماء کو یہ خبر بھی نہیں کہ یہ (باتیں) کیوں قرآن وحدیث میں ذکر کی گئی ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ایسی باتیں کسی بہتان کے دفع کرنے کے لئے آتی ہیں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مریم صدیقہ پر ایک بڑا بہتان باندھا گیا تھا، اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس کا نام صدیقہ رکھ دیا۔افسوس ہے ! نہ تو ان لوگوں کے اکابر سمجھتے ہیں اور نہ ان کا اقتداء کرنے والوں کو کچھ خیال آتا ہے کہ ایسے عقیدہ سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر داغ لگایا جاتا ہے۔اگر قرآن شریف میں خدا کے بندوں کا مس شیطان سے پاک ہونے کا ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت اور آپ پر ایمان کا یہ تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ ایسا نا پاک عقیدہ آپ کے متعلق نہ رکھا جاتا۔حضرت مریم کے متعلق یه عاتی که : إلى أعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ مگر یہ دعا بھی اسی اعتراض کے رفع کرنے کے واسطے ذکر کی گی ہے ورنہ خدا کے انبیاء اور اولیا کے متعلق تو پہلے سے اللہ تعالیٰ کا خاص ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو مقدس رسول بنایا جاوے گا، وہی ارادہ ء الہی ابتداء سے ان کی پیدائش اور تمام امور کو مقدس رکھتا ہے۔انبیاء علیہم السلام تو مادر زاد پاک ہوتے ہیں اور شیطان سے دور رکھے جاتے ہیں۔دنیا میں پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے؛ ایک رحمانی اور دوسری شیطانی۔خدا تعالی کے تمام نیک بندوں کی پیدائش رحمانی ہوتی ہے شیطان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا اور انہیں کے متعلق کہا جاتا (ہے) کہ : رُوح مِنْهُ ان کا روح خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس میں حضرت عیسی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ، خدا تعالیٰ کے تمام نیک بندوں کی روح خدا کی طرف سے آتی ہے۔زمخشری نے بخاری کے حاشیہ میں اس حدیث کے یہی معنے کئے ہیں جو ہم کرتے ہیں، یہ علماء زمخشری کو