تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 40

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران عُبُرا (یونس : ۱۷ )۔پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔یہ الفاظ حضرت مسیح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں، ان کی برات کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتہ دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) اصل میں یہ مسئلہ اس طرح سے ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے ایک مش روح القدس سے اور ایک میں شیطان سے ، تمام نیک اور راست بازلوگوں کی اولا دمش روح القدس سے ہوتی ہے اور جو اولاد بدی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ میں شیطان سے ہوتی ہے۔تمام انبیاء میں روح القدس سے پیدا ہوئے تھے مگر چونکہ حضرت عیسی کے متعلق یہودیوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ وہ نعوذ باللہ! ولد الزنا ہیں اور مریم کا ایک اور سپاہی پنڈارا نام کے ساتھ تعلق ناجائز کا ذریعہ ہیں اور مش شیطان کا نتیجہ ہیں۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمہ سے یہ الزام دور کرنے کے واسطے ان کے متعلق یہ شہادت دی تھی کہ ان کی پیدائش بھی تمیش روح القدس سے تھی چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیا کے متعلق کوئی اس قسم کا اعتراض نہ تھا اس واسطے ان کے متعلق ایسی بات بیان کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین؛ عبد اللہ اور آمنہ کو تو پہلے ہی سے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے ؛ دیکھا جاتا تھا اور ان کے متعلق ایسا خیال و گمان بھی کبھی کسی کو نہ ہوا تھا۔ایک شخص جو مقدمہ میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کے واسطے صفائی کی شہادت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جو شخص مقدمہ میں گرفتار ہی نہیں ہوا۔اس کے واسطے صفائی شہادت کی کچھ ضرورت ہی نہیں۔(احکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۶ صفحه ۴) ہمارا ایمان یہ ہے کہ کسی نبی کو بھی میں شیطان نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندوں میں سے بھی کسی کو میش شیطان نہیں ہوتا۔مطلب اس سے اور تھا اور انہوں نے کچھ اور سمجھ لیا۔اگر صرف یہ اعتقاد رکھا جاوے کہ میچ ہی میں شیطان سے پاک تھے اور کوئی پاک نہ تھے تو یہ تو کلمہ کفر ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہودی مریم علیہا السلام کو معاذ اللہ !ا زانیہ اور حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ! ولد الزنا کہتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کے اس الزام سے بریت کی اور مریم کا نام صدیقہ رکھا اور حضرت مسیح کے لئے کہا کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے۔اولا د دو قسم کی ہوتی ہے؛ ایک وہ جو میں شیطان سے ہو، وہ ولد الحرام کہلاتی ہے، دوسری وہ جو روح القدس کے مس سے ہو وہ ولد الحلال