تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 28
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة ال عمران اور تجربہ کار ہو کر روح چمک اُٹھتی ہے جیسے لوہا یا شیشہ اگر چہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے لیکن صیقلوں کے بعد ہی محبلاً ہوتا ہے حتی کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا نظر آ جاتا ہے۔مجاہدات بھی صیقل کا ہی کام کرتے ہیں۔دل کا صیقل یہاں تک ہونا چاہئے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آ جاوے، منہ کا نظر آنا کیا ہے؟تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کا مصداق ہونا۔سالک کا دل آئینہ ہے جس کو مصائب ، شدائد اس قدر صیقل کر دیتے ہیں کہ اخلاق النبی اس میں منعکس ہو جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی کدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہے۔کوئی مومن بلا آئینہ ہونے کے نجات نہ پائے گا۔سلوک والا خود یہ صیقل کرتا ہے، اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے لیکن جذبہ والا مصائب میں ڈالا جا تا ہے۔خداخوداس کا مصقل ہوتا ہے۔اور طرح طرح کے مصائب شدائد سے صیقل کر کے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔دراصل سالک و مجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے۔(رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ صفحه ۴۳، ۴۴) اس خانہ خدا کو بتوں سے پاک وصاف کرنے کے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے اور اس جہاد کی راہ میں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو ان بتوں کو توڑ ڈالو گے اور یہ راہ میں اپنی خود تراشیدہ نہیں بتاتا بلکہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے کہ میں بتاؤں، اور وہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آؤ، یہ آواز نئی آواز نہیں ہے مکہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا تھا : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ای طرح پر اگر تم میری پیروی کرو گے تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہو جاؤ گے۔اور اس طرح پر سینہ کو جو طرح طرح کے بتوں سے بھرا پڑا ہے پاک کرنے کے لائق ہو جاؤ گے۔تزکیہ نفس کے لئے چلہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں۔ازہ اور نفی و اثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے۔بلکہ ان کے پاس ایک اور ہی چیز تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے جو نور آپ میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ کے قلب پر گرتا تھا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا تاریکی کے بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔ود الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۱ء صفحه ۳،۲)