تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 29
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة ال عمران میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲۰۱) ان کو کہہ دو کہ تم اگر چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دیئے جاویں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شی ہے جو رحمت الہی سے نا امید ہونے نہیں دیتی گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے۔اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہوگا کہ تم میری پیروی کرو۔اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت و مشقت اور جب آپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قرب الہی کا حقدار نہیں بن سکتا، انوار و برکات الہیہ کسی پر نازل نہیں ہوسکتیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے اس کو وہ نور ایمان، محبت اور عشق دیا جاتا ہے جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے۔اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کا موجب ہوتا ہے۔اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے اور نفسانی جوش و جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے نکال دیا جاتا ہے، اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے: آنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اُٹھائے جاتے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۲) سعادت عظمی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے جیسا کہ اس آیت میں صاف فرما دیا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله یعنی آؤ میری پیروی کرو تا کہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔اگر حقیقت مذہب یہی ہے تو پھر نماز کیا چیز ہے؟ اور روزہ کیا چیز ہے؟ خود ہی ایک بات سے