تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة ال عمران وجود پر یقین رکھتا ہے۔اس جگہ آسمانی نور سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا یقینی مکالمہ اسے نصیب ہوتا ہے یا صاحب مکالمہ سے نہایت شدید اور گہراتعلق اس کو ہوتا ہے اور مکالمہ الہیہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ عام لوگوں کی طرح ظنی طور پر وہ الہام کا دعوی کرتا ہے کیونکہ ظنی الہام کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وہ عقل سے بھی نیچے گرا ہوا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ در حقیقت وہ یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی ایسی پاک اور کامل وحی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نشان ایک لازمی امر کی طرح ہوتے ہیں اور وہ وحی اپنی ذات میں نہایت شوکت اور عظمت رکھتی ہے اور اپنے پر رعب اور لذیذ الفاظ کے ساتھ ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر گھس جاتی ہے اور اس پر خدا کے نشانوں اور فوق العادت علامات کی ایک چمکتی ہوئی مہر ہوتی ہے اور انسان کو خدا پر پورا یقین حاصل کرنے کے لئے یہ ایک پہلی ضرورت ہے کہ ایسی وحی سے بذات خود فیضیاب ہو یا ایک فیضیاب سے تعلق شدید رکھتا ہو جو روحانی تاثیر سے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہو ( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۸۰ تا ۶۸۴) صوفیوں نے ترقیات کی دور ہیں لکھی ہیں ؛ ایک سلوک ، دوسرا جذب سلوک وہ ہے۔جولوگ آپ عظمندی سے سوچ کر اللہ و رسول کا راہ اختیار کرتے ہیں۔جیسے فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننے چاہتے ہو تو رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرو۔وہ ہادی کامل ، وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اُٹھائی کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام نہ پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے جو اپنے متبوع کے ہر قول و فعل کی پیروی پورے جدو جہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ پسند نہیں کرتا۔بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔یہاں جو اللہ تعالی نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہوگا کہ اول رسول اکرم کی کل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے، اسی کا نام سلوک ہے۔اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں۔ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔اہل جذبہ کا درجہ سالکوں سے بڑھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ انہیں سلوک پر ہی نہیں رکھتا بلکہ خود ان کو مصائب میں ڈالتا اور جاذبہ ازلی سے اپنی طرف کھینچتا ہے، گل انبیاء مجذوب ہی تھے۔جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے، ان سے فرسودہ کار