تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ سورة ال عمران نزدیک نہیں جا سکتا۔چور کو اگر یہ اطلاع ہو کہ جس جگہ میں نقب لگانا چاہتا ہوں اس جگہ مخفی طور پر ایک جماعت کھڑی ہے جو عین نقب زنی کی حالت میں مجھے پکڑلے گی تو وہ ہر گز اس بات پر جرات نہیں کر سکتا کہ نقب لگاوے بلکہ اگر ایک پرند بھی اس بات کو تاڑ جائے کہ یہ چند دانہ جو میرے لئے زمین پر پھیلائے گئے ہیں ان کے نیچے دام ہے تو وہ ان دانوں کے نزدیک نہیں آتا ایسا ہی اگر مثلاً ایک نہایت عمدہ لطیف کھانا پکایا گیا ہومگرکسی شخص کو یہ علم ہو جائے کہ اس کھانے میں زہر ہے تو وہ کبھی اس کھانے کے نزدیک نہیں آتا پس ان تمام مشاہدات سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب ایک موذی اور نقصان رساں چیز کی نسبت پورا علم حاصل کر لے تو کبھی اس چیز کی طرف رغبت نہیں کرتا بلکہ اس کی شکل سے بھاگتا ہے۔لہذا یہ امر قابل تسلیم ہے کہ اگر انسان کو کسی ذریعہ سے اس بات کا علم ہو جائے کہ گناہ ایسی مہلک زہر ہے۔جوفی الفور ہلاک کرتی ہے تو بلاشبہ بعد اس علم کے انسان گناہ کا مرتکب ہر گز نہیں ہو گا لیکن اس جگہ طبعاً یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ وہ ذریعہ کون سا ہے۔کیا عقل یہ ذریعہ ہو سکتی ہے؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل ہر گز کامل ذریعہ نہیں ہو سکتی جب تک کوئی آسمانی مددگار نہ ہو کیونکہ دل میں یہ یقین ہونا کہ گناہ کے لئے واقعی ایک سزا ہے جس سے انسان بھاگ نہیں سکتا۔یہ یقین کامل طور پر اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب کامل طور پر معلوم ہو کہ خدا بھی ہے جو گناہ پر سزا دے سکتا ہے لیکن مجرد عقلمند جس کو آسمان سے کوئی روشنی نہیں ملی خدا تعالیٰ پر کامل طور پر یقین نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے خدا کے کلام کو نہیں سنا اور نہ اس کے چہرہ کو دیکھا اس لئے اس کو خدا تعالی کی نسبت بشر طیکہ وہ زمین و آسمان کی مخلوقات پر غور کر کے صحیح نتیجہ تک پہنچ سکے صرف اس قدر علم ہو سکتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن اس یقینی قطعی علم تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ صانع موجود بھی ہے اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہئے اور ہے میں بڑا فرق ہے یعنی جو شخص صرف اسی قدر علم رکھتا ہے کہ فقط ہونا چاہئے کے مرتبہ پر آ کر ٹھہر گیا ہے پھر ماوراء اس کے اس کی نظر کے سامنے تاریکی ہی تاریکی ہے وہ اس شخص کی مانند اپنے علم کی رو سے ہر گز نہیں کہ جو اس صانع حقیقی کی نسبت صرف یہ نہیں کہتا کہ ہونا چاہئے بلکہ اس نور کی شہادت سے جو اس کو دیا گیا ہے محسوس بھی کر لیتا ہے کہ وہ ہے بھی اور یہ نہیں کہ صرف وہ آسمانی نور سے خدا کی ہستی کا مشاہدہ کرتا ہے بلکہ اس آسمانی نور کی ہدایت سے اس کے عقلی اور ذہنی قومی بھی ایسے تیز کئے جاتے ہیں کہ اس کا قیاسی استدلال بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ہوتا ہے پس وہ دوہری قوت سے خدا تعالیٰ کے