تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 25

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة ال عمران جاتا ہے وہ الہی نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا ہے اس سے یہ شخص بھی حصہ لیتا ہے تب چونکہ ظلمت اور نور کی باہم منافات ہے وہ ظلمت جو اس کے اندر ہے دور ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کوئی حصہ ظلمت کا اس کے اندر باقی نہیں رہتا اور پھر اس نور سے قوت پا کر اعلیٰ درجہ کی نیکیاں اس سے ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ہر یک عضو میں سے محبت الہی کا نور چمک اٹھتا ہے تب اندرونی ظلمت بکلی دور ہو جاتی ہے اور علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے، آخر ان نوروں کے اجتماع سے گناہ کی تاریکی اس کے دل سے کوچ کرتی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ نور اور تاریکی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے لہذا ایمانی نور اور گناہ کی تاریکی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور اگر ایسے شخص سے اتفاقا کوئی گناہ ظہور میں نہیں آیا تو اس کو اس اتباع سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ گناہ کی طاقت اس سے مسلوب ہو جاتی ہے اور نیکی کرنے کی طرف اس کو رغبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ آپ قرآن شریف میں فرماتا ہے : حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَ زَيَّنَةُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكَفْرَ وَ الفُسُوقَ وَالْعِصْيَان (الحجرات : ۸) کہ خدا نے تم پر پاک روح نازل کر کے ہر یک نیکی کی تم کو رغبت دی اور کفر اور فسق اور عصیان تمہاری نظر میں مکر وہ کر دیا۔لیکن اگر اس جگہ یہ سوال ہو کہ وہ نور جو بذریعہ نبی علیہ السلام کے پیروی کرنے والے کو ملتا ہے جس سے گناہ کے جذبات دور ہو جاتے ہیں وہ کیا چیز ہے؟ سو اس سوال کا یہ جواب ہے کہ وہ ایک پاک معرفت ہے جس کے ساتھ کوئی تاریکی شک وشبہ کی نہیں اور وہ ایک پاک محبت ہے جس کے ساتھ کوئی نفسانی غرض نہیں اور وہ ایک پاک لذت ہے جو تمام لذتوں سے بڑھ کر ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔اور وہ ایک زبر دست کشش ہے جس پر کوئی کشش غالب نہیں اور ایک قوی الاثر تریاک ہے جس سے تمام اندرونی زہریں دور ہوتی ہیں۔یہ پانچ چیزیں ہیں جو نور کے طور پر روح القدس کے ساتھ سچی پیروی کرنے والے کے دل پر نازل ہوتی ہیں پس ایسا دل نہ صرف گناہ سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے بلکہ طبعاً اس سے متنفر بھی ہو جاتا ہے۔ان پانچ چیزوں کی طاقت کا جدا جدا بیان تو بہت طول چاہتا ہے مگر صرف پاک معرفت کی خاصیتوں کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرنا اس حقیقت کے سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ کیوں کر پاک معرفت گناہ سے روکتی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان بلکہ حیوان بھی ہر ایک نقصان رساں چیز کی نسبت علم صحیح اور یقینی پاکر پھر اس کے