تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 403
۴۰۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء نہیں کہ وہ مرکر پھر زندہ ہو گیا کیونکہ یہ امر غیر معقول اور سخت بعید از قیاس ہے جو بودی اور کمزور شہادتوں سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عقل کے لیے سہل طریق یہی ہے کہ صلیب پر اس کی جان نہیں نکلی تھی جیسا کہ اس سے پہلے بھی ایسے اتفاق کئی ہوئے تھے کہ بعض آدمی صلیب پر نہیں مرے تھے پس طریق معقول کو چھوڑ کر طریق نامعقول کو اختیار کرنا سراسر سچائی سے دشمنی اور جہالت سے دوستی ہے اگر مسیح نئے سرے زندہ کیا جاتا تو اس کو قوم کا کچھ خوف نہ ہوتا کیونکہ جس خدا نے اس کو مار کر پھر زندہ کیا وہ خدا اس کو ضرور بچا تا اور اس کا یقین بڑھ جاتا۔پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ مسیح دوبارہ زندگی کے بعد یہود سے ڈرتا رہا کہ مجھے پکڑ نہ لیں اور اپنے شاگردوں کو منع کرتا رہا کہ میبود کو میری اطلاع نہ ہو، تا ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ پھر آ کر مجھے پکڑ لیں۔پھر عجیب در عجیب یہ بات ہے کہ مسیح کو دو بار خدا نے زندہ تو کیا مگر اس کے زخموں کے اچھا کرنے پر وہ قادر نہ ہو سکا اور آخر اچھا کرنے کے لیے اس مرہم کی حاجت پڑی جو آج تک مرہم عیسی کے نام سے مشہور چلی آتی ہے۔پھر چوتھی دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا نسخہ مرہم عیسی ہے جو طب کی کتابوں میں جو ہزار کے قریب ہیں بلکہ غالباً اس سے زیادہ ہوں گی۔اب تک پایا جاتا ہے موجود ہے اور یہ کتابیں یونانی ، رومی، عبرانی، فارسی میں موجود ہیں اور اس زمانہ سے عیسوی تاریخ کی دوسری صدی تک ان کتابوں کا پتہ ملتا ہے، اس نسخہ مرہم عیسی کی نسبت طبیب لوگ یہ لکھتے چلے آئے ہیں کہ یہ مرہم حواریوں نے عیسی کے لیے تیار کی تھی اور چونکہ اس مرہم کے فوائد میں یہ لکھا ہے کہ وہ چوٹوں کے لیے بہت مفید ہے اور زخم کو اچھا کرتی ہے اور خون جاری کو بند کرتی ہے پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ مرہم حضرت مسیح کی ان چوٹوں کے لیے تیار کی گئی تھی جو صلیب سے اس کو پہنچی تھیں۔یہ شہادت یعنی نسخہ مرہم عیسی بڑی توجہ کے لائق ہے کیونکہ علمی کتابوں میں یہ درج ہے اور ہزارہا طبیب اس کی تصدیق کرتے آئے ہیں۔پھر پانچویں دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا، نقودیموس کی انجیل ہے جو لنڈن میں بزبان انگریزی ۱۸۲۰ء میں چھپی تھی اس انجیل کے دسویں باب میں لکھا ہے کہ رومی سپاہیوں نے یہودیوں کو کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم نے یوسف کو جس نے یسوع کی نعش کو کفنایا تھا ایک کوٹھہ میں بند کیا ہے جس کی کلید مہر بند کر کے رکھی تھی اور جب تم نے اس کو ٹھہ کو کھولا تو یوسف کو تم نے نہ پایا۔ہم کو یوسف کو دو جس کو تم نے ایک کوٹھہ میں بند کیا تھا تو ہم تم کو یسوع کو ( یعنی عیسی علیہ السلام ) دے دیں گے جس کی ہم نے قبر میں حفاظت کی تھی۔یہودیوں نے جواب دیا کہ ہم تم کو یوسف کو دے دیں گے تم ہم کو یسوع کو دو۔یوسف اپنے شہر اری ہاتھی"