تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 404
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۴ سورة النساء 66 میں ہے۔سپاہیوں نے جواب دیا کہ اگر یوسف ”اری ہاتھی میں ہے تو یسوع «گلیل“ میں ہے۔‘ اس لفظ میں صریح اشارہ ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسی صلیب سے بچ کر اپنے شہر گلیل میں چلا گیا تھا۔اور اس انجیل پر کچھ موقوف نہیں مروجہ چار انجیلوں پر غور کر کے بھی اس قدر ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مسیح قبر سے نکل کر گلیل کی طرف گیا تھا۔پس ایک امر قریب القیاس کو چھوڑ کر جو صاف اور سیدھے طور پر معلوم ہورہا ہے۔ایک اعجوبہ بعید از قیاس بنانا اور مسیح کو مار کر پھر اس کو زندہ کرنا ایک ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی عقلمند اس کو قبول نہیں کرے گا۔کیوں یہ بات نہ مان لی جائے کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا اور مرنے کے اسباب بھی پیدا نہیں ہوئے تھے نہ اس کی ٹانگیں توڑی گئیں اور نہ وہ بہت دیر تک صلیب پر رکھا گیا پھر کچھ تعجب کی بات نہیں تھی کہ وہ صلیب پر نہ مرتا بلکہ تعجب کی بات یہ تھی کہ باوجود ٹانگیں نہ توڑنے کے وہ صرف تین چار گھنٹہ کی مدت میں صلیب پر مرجاتا۔اس واقعہ کی نظیر کسی مصلوب میں نہ پاؤ گے کہ وہ باوجود ٹانگوں کے نہ توڑنے کے اس قدر جلد مر گیا۔قیاس تو یہ چاہتا تھا کہ خدا کی جان بہ نسبت انسان کی جان کے بہت دیر کے بعد نکلتی کیونکہ جس قدر خدا اور انسان میں فرق ہے اسی قدر ان کے مرنے میں بھی فرق ہونا چاہیے۔پس یہ کیا بات ہے کہ انسانوں کی تو صلیب پر چھ چھ سات سات دن کے بعد جان نکلے اور جو خدا کہلاتا تھا جس نے اپنی قومی طاقتوں سے دنیا کو نجات دینا تھا وہ تین چار گھنٹہ میں مرجائے اور یہ جواب صحیح نہیں ہے کہ اگر چہ وہ خدا تھا لیکن تمام دنیا کے گناہ جو یک دفعہ اکٹھے ہو کر اس کی گردن پر پڑے اس لیے وہ کمزور ہو گیا اور ان گناہوں کے بوجھ کی برداشت نہ کر سکا اس لیے وہ جلد تر مرگیا کیونکہ اگر وہ گناہوں کے بوجھ کی برداشت نہیں کر سکتا تھا تو کیوں اس نے ایسی فضولی کی کہ میں برداشت کر لوں گا اور کیوں اس نے کہا کہ میں تمام دنیا کے گناہ اپنے سر پر لے سکتا ہوں۔جس حالت میں گناہ غالب رہے جنہوں نے بہت جلد اس کو ہلاک کر دیا اس لیے قومی طاقت کے لحاظ سے گناہ قابل تعریف ہیں نہ کہ یسوع مسیح کہ جو ایسا جلد ان کے نیچے دب کر مر گیا جیسا کہ ایک کمزور بچہ تھوڑے سے صدمہ سے مرجاتا ہے بہر حال یہ عجیب بات ہے کہ خدا پر گناہ غالب آ گئے۔یہاں تک کہ ان گناہوں نے صرف تین گھنٹوں تک اس کا کام تمام کر دیا ایسے کمزور خدا پر ایمان لانا جس کی موت کا باعث اس کی کمزوری ہے اگر بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ تو پادری صاحبوں کا عجیب عقیدہ ہے مگر ان کی انسکلو پیڈیا جلد ۱۳ صفحہ ۶۶۹ میں لکھا ہے کہ مسیح نے واقعہ صلیب کے بعد دس دفعہ لوگوں سے ملاقات کی اور وہ صرف تین گھنٹہ تک صلیب پر رہا تھا۔اب اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ضرور صلیب سے زندہ بچ گیا۔جیسا کہ اس سے پہلے بھی وہ یہودیوں کے حملوں سے بچتا رہا۔